امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو دنیا کے جدید ترین ایف-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ فراہم کرنے کی منظوری دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے 8 سال بعد واشنگٹن کے اہم دورے سے صرف ایک دن پہلے سامنے آیا ہے، جسے سفارتی اور دفاعی سطح پر غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کےمطابق ٹرمپ نے اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ایف-35 جیسے ہائی ٹیک جنگی طیارے کی حساس ٹیکنالوجی چین تک منتقل ہو سکتی ہے۔
چین اور سعودی عرب کے تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے مشترکہ بحری مشقیں بھی کیں۔چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔یہ عوامل امریکی خفیہ اداروں کے لیے تشویش کی بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے واضح جواب دیا کہ ہم سعودی عرب کو ایف-35 فروخت کریں گے۔
یہ سودا ان بڑے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں میں شامل ہے جن کا اعلان ایم بی ایس کے دورۂ امریکہ کے دوران متوقع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، سعودی ولی عہد اس دورے میں امریکی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
اس معاہدے پر سب سے زیادہ اعتراض اسرائیل نے کیا ہے، کیونکہ اسرائیل پہلے سے ہی ایف-35 طیارے استعمال کر رہا ہے۔ اسے خوف ہے کہ سعودی عرب کو یہ طیارے دینے سے اس کی فوجی برتری کمزور ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکا اس معاہدے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لے رہا ہے
امریکا نے ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی “کوآلیٹیٹو ملٹری ایج برقرار رکھنے کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔











