اہم ترین

برطانیہ میں تارکین وطن کیلئے اب سیاسی پناہ لینا بھی ہوگا مشکل: اصلاحات کا اعلان

برطانیہ نے امیگریشن کے نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر قانونی افراد کو فوری طور پر ملک بدر کیا جائے گا اور پناہ کے نظام میں کئی اہم اصلاحات کی جائیں گی۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں تقریباً چار لاکھ افراد نے برطانیہ میں پناہ طلب کی ہے، جس نے موجودہ نظام پر دباؤ ڈالا۔ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیاسی پناہ کے نظام کو درست کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

شبانہ محمود نے کہا کہ نئے پلان کے تحت پناہ حاصل کرنے والوں کو برطانیہ میں عارضی قیام کی اجازت ہوگی، جبکہ مستقل رہائش کے لیے انہیں لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔

پناہ کے طالب افراد کا جائزہ پانچ سال کی بجائے ڈھائی سال کے بعد لیا جائے گا۔ اگر آبائی ملک کو محفوظ سمجھا جائے تو پناہ گزین کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

پناہ کے طالب افراد صرف ایک اپیل کر سکیں گے۔ اگر یہ اپیل رد ہو جائے تو فرد کو ملک بدر کیا جائے گا۔سیاسی پناہ طلب کرنے والے افراد کو برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے 20 برس انتظار کرنا ہوگا۔

محفوظ اور قانونی طریقے سے آنے والے افراد جو معاشرے میں اپنا حصہ ڈالیں، وہ مستقل رہائش کے لیے جلد رجوع کر سکیں گے۔

نئے منصوبے کے تحت یورپی کنونشن آف ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 8 کے نفاذ سے متعلق نیا بل پیش کیا جائے گا۔خاندانی زندگی کا حق صرف اُن افراد کو ملے گا جو قریبی عزیزوں کے ساتھ رہ رہے ہوں۔پناہ گزینوں کے لیے ہاوسنگ اور ہفتہ وار الاؤنس کی ضمانت نہیں ہوگی۔

پاکستان