یورپی یونین کی ایک اعلیٰ عدالت نے امریکی آن لائن کمپنی ایمازون کی وہ قانونی درخواست مسترد کر دی، جس میں کمپنی نے یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اپنی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔
ایمازون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یورپی یونین نے اسے غلط طور پر ’بہت بڑی آن لائن کمپنی قرار دیا ہے، اس لیے اس پر ڈی ایس اے کے سخت ضوابط لاگو نہیں ہونے چاہییں۔ تاہم عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ایمازون کی درجہ بندی کو درست قرار دیا۔
جرمن ویب سائیٹ کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یورپی یونین کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے صارفین کو آن لائن دنیا میں درپیش منظم خطرات سے محفوظ رکھے، اور ایمازون جیسی بڑی کمپنیوں پر سخت قواعد کا اطلاق اسی مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے۔
یورپی یونین کا ڈجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) گوگل، مائیکروسافٹ، ایمازون اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کو پنے پلیٹ فارمز پرغیر قانونی مواد کے پھیلاؤ کی روک تھام ،صارفین کی بہتر حفاظت یقینی بنانے اور شفافیت کے سخت تقاضے پورے کرنے کا پابند بناتا ہے۔
عدالت کے مطابق ایمازون کا یورپی صارفین تک وسیع رسائی اور اس کے پلیٹ فارم پر تجارت کے بڑے پیمانے پر ہونے والا تبادلہ اسے اسی کیٹیگری میں رکھتا ہے جس پر ڈی ایس اے کا اطلاق بنتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد ایمازون کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور اب وہ اس معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے یورپی عدالتِ انصاف میں اپیل دائر کرے گی۔
ترجمان کے مطابق ایمازون سمجھتا ہے کہ اس پر لگنے والے ضوابط غیر منصفانہ ہیں، اور دیگر پلیٹ فارمز کے مقابلے میں اس کے بزنس ماڈل کو غلط طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔











