ایلون مسک کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے حال ہی میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارفین کے اکاؤنٹس کے ساتھ اُن کا اندازاً تعین کردہ ملک یا خطہ ظاہر کیا جانے لگا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس فیچر کا مقصد پلیٹ فارم پر شفافیت اور اعتماد کو بڑھانا ہے، تاہم اس کے نتائج نے الٹا پلیٹ فارم پر ناراضی، تنقید اور طنز کی لہر دوڑا دی ہے۔
فیچر کے فعال ہوتے ہی یہ بات سامنے آئی کہ کئی سیاسی اکاؤنٹس خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میک امریکا گریٹ اگین (میگا)کے سیاسی بیانیے سے منسلک نمایاں اکاؤنٹس کے پروفائلز پر امریکا کے بجائے دیگر ممالک درج ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے صارفین کو حیران بھی کیا اور مشتعل بھی، کیونکہ یہ اکاؤنٹس طویل عرصے سے امریکی سیاست میں سرگرم ہیں۔
صارفین نے مطالبہ کیا کہ کمپنی واضح کرے کہ یہ لوکیشن کس بنیاد پر ظاہر کی جا رہی ہے، کیونکہ غلط جغرافیائی شناخت سے اکاؤنٹس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔
مزید تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب صارفین نے دیکھا کہ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کا آفیشل اکاؤنٹ بھی نئے فیچر کے تحت اسرائیل سے فعال بتایا جا رہا ہے۔ اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر بحث اور سازشی بیانیوں کو مزید ہوا دی، اور صارفین نے اس غلطی کو فیچر کی سنگین کمزوری قرار دیا۔
پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور تنازعات کے تناظر میں فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے انویسٹیگیٹیو جرنلسٹ ویڈیکا باہل نے اپنے تجزیاتی پروگرام سچ یا جھوٹ میں اس معاملے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیچر اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی تکنیکی خامیاں ہی وہ بنیادی وجہ ہیں جنہوں نے اس ہنگامے کو جنم دیا۔ ان کے مطابق لوکیشن ظاہر کرنے کا طریقہ کار شفاف نہیں، جس کے باعث صارفین کے درمیان غلط تشریحات پھیل رہی ہیں۔
اگرچہ ایکس انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی وضاحت جاری نہیں کی گئی، لیکن صارفین کی بڑی تعداد اس فیچر کو غیر معتبر قرار دے رہی ہے اور اسے معطل یا بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔











