اہم ترین

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات گرفتار نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درج متعدد مقدمات میں عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے دونوں کی گرفتاری سے روک دیا ہے اور عبوری ضمانت میں 23 دسمبر تک توسیع کر دی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں اور دیگر دفعات کے تحت درج مقدمات کی سماعت کی۔

عدالتی کارروائی کے دوران بانی پی ٹی آئی کی عدم پیشی کے باعث ان کی جانب سے دی گئی ضمانت کی درخواستوں پر دلائل نہیں ہو سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کو لازمی طور پر پیش کیا جائے، چاہے عدالت میں ذاتی حیثیت میں یا ویڈیو لنک کے ذریعے۔ اس سلسلے میں عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے انتظامات مکمل کرنے کا حکم دیا۔

مقدمات کے ریکارڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات میں مبینہ کردار، اقدام قتل، سرکاری ریکارڈ میں غلط بیانی اور پارٹی اکاؤنٹس سے متعلق مبینہ جعلی رسیدوں پر مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ دوسری جانب بشریٰ بی بی پر بھی مبینہ طور پر جعلی رسیدیں جمع کروانے کا الزام ہے جس پر الگ مقدمہ درج ہے۔

سماعت کے دوران وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ موکلین سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور عدالت سے استدعا کی کہ عبوری ضمانت میں توسیع دی جائے تاکہ وہ قانونی تقاضے پورے کر سکیں۔ تاہم بانی پی ٹی آئی کی مسلسل عدم دستیابی کے معاملے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سمن کے باوجود پیش نہ ہونا قابلِ افسوس ہے۔

عدالت نے تمام درخواستوں پر سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کی عدم پیشی کی صورت میں عدالت مناسب قانونی اقدام اٹھانے میں حق بجانب ہوگی۔ قانونی ماہرین کے مطابق آئندہ سماعت اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس میں دونوں جانب سے دلائل پیش کیے جائیں گے اور مقدمات کے مستقبل کا تعین بھی ممکن ہے۔

پاکستان