کینبرا: آسٹریلیا کی سینیٹ نے انتہائی دائیں بازو کی سیاست دان اور ون نیشن پارٹی کی رہنما پولین ہینسن کو اس وقت سات روز کے لیے معطل کر دیا، جب وہ عوامی مقامات پر مسلم خواتین کے برقع پر پابندی کی مہم کے تحت برقع پہن کر ایوان میں پہنچیں۔ ان کے اس اقدام کو ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سمیت مسلم ارکانِ پارلیمنٹ نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سینیٹر ہینسن طویل عرصے سے برقع اور چہرے کو ڈھانپنے والے لباس کی مخالف رہی ہیں۔ جب انہیں برقع پر پابندی سے متعلق بل پیش کرنے کی اجازت نہیں ملی تو وہ پیر کے روز ایوانِ بالا میں مکمل نقاب پہن کر داخل ہو گئیں۔ ان کے اس عمل کو ایوان کی توہین اور مسلم عقیدے کی تضحیک قرار دیتے ہوئے بیشتر اراکین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔
لیبر حکومت کی وزیرداخلہ اور سینیٹ میں قائد ایوان پینی وونگ نے کہا کہ پولین ہینسن کا یہ رویہ “نفرت انگیز، اتھل پتھل پیدا کرنے والا اور آسٹریلیا کے سماجی تانے بانے کے لیے نقصان دہ ہے”۔ انہوں نے کہا کہ ہینسن نے “ایک پورے مذہبی عقیدے کا مذاق اڑایا ہے جس پر تقریباً دس لاکھ سے زائد آسٹریلوی یقین رکھتے ہیں۔”
گرینز پارٹی کی رکن مہرین فاروقی اور آزاد سینیٹر فاطمہ پے مین سمیت متعدد قانون سازوں نے ہینسن کے اقدام کو “واضح نسل پرستی” اور “شرمناک حرکت” قرار دیا۔ گزشتہ سال ایک وفاقی عدالت نے بھی مہرین فاروقی کو پولین ہینسن کے نسلی امتیازی بیانات کا نشانہ قرار دیا تھا۔
حکومتی تحریک پر ہینسن کے خلاف قرارداد 5 کے مقابلے میں 55 ووٹوں سے منظور ہوئی، جس کے نتیجے میں انہیں سینیٹ سے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا۔ ووٹنگ کے دوران پینی وونگ نے کہا کہ پولین ہینسن “آسٹریلیائی سینیٹ کی رکنیت کے لائق نہیں ہیں۔”
اپنے دفاع میں پولین ہینسن نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ اگر پارلیمنٹ چاہتی ہے کہ وہ برقع نہ پہنیں تو اسے پابندی کے قانون میں شامل کر دیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان کے لیے کوئی ڈریس کوڈ موجود نہیں اور وہ برقع کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہیں گی۔
پولین ہینسن 1990 کی دہائی سے امیگریشن مخالف اور اسلامی لباس کے خلاف مہم کا حصہ رہی ہیں۔ ان کی جماعت ون نیشن نے گزشتہ عام انتخابات میں سینیٹ میں چار نشستیں حاصل کی تھیں اور قوم پرستانہ جذبات کی وجہ سے اس کی حمایت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ہینسن کے اس تازہ اقدام نے آسٹریلیا میں مذہبی آزادی، نسل پرستی اور پارلیمانی آداب سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔











