پاکستانی تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک بھر میں مختلف پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 3187 افراد جاں بحق اور 1981 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے، جب 2024 میں مجموعی طور پر 2,546 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
جرمن ویب سائیٹ میں جاری رپورٹ کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 کے دوران 1188 دہشت گرد حملے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ہوئیں، جن میں زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے۔ دونوں صوبوں میں مجموعی حملوں کا 92 فیصد اور ہلاکتوں کا 96 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں 2165 افراد ہلاک اور 732 واقعات رپورٹ ہوئے۔ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 1,370 شدت پسند مارے گئے، جو دہشت گرد حملوں میں ہونے والی 795 ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے باعث 517 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ سکیورٹی آپریشنز میں 379 شدت پسند مارے گئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ صوبے میں شدت پسند گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔
سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 90 واقعات پیش آئے جن میں 126 افراد جاں بحق ہوئے، جو کہ مجموعی ہلاکتوں کا چار فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے پہلے 11 ماہ میں ملک میں اوسطاً روزانہ 15 افراد پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے۔











