ٹیک ماہرین نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے، جسے انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔ یہ خطرہ اینڈرائیڈ 13 سے لے کر نئے اینڈرائیڈ 16 تک تمام ورژنز کو متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اینڈرائیڈ میں موجود متعدد خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز صارفین کا حساس ڈیٹا چُرا سکتے ہیں۔ یہ خامیاں اینڈرائیڈ سسٹم کے مختلف حصوں اور مختلف چِپ بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ خطرات گوگل اینڈرائیڈ کے بگ آئی ڈیز کے علاوہ کوالکوم، میڈیا ٹیک ، این ویڈیا، بارڈکوم اور یونی سوک کے ریفرنس نمبرز والے مسائل کی وجہ سے سامنے آئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف اینڈرائیڈ تک محدود نہیں بلکہ فون کے ہارڈویئر اور ڈرائیور لیول تک جاتا ہے۔
چوں کہ یہ خامیاں مختلف چپ سیٹ کمپنیوں کو متاثر کر رہی ہیں، اس لیے سام سنگ، شیاؤمی، ون پلس ، وی وو اور رئیل می سمیت تقریباً تمام اسمارٹ فون برانڈز اس خطرے کی زد میں آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی بھی ہیکر ان خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ناصرف صارفین کا حساس ڈیٹا حاصل کر سکتا ہےبلکہ ڈیوائس کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ گوگل نے ان سیکیورٹی کمزوریوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے لیے پیچ جاری کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 کے اینڈرائیڈ سیکیورٹی اپڈیٹ میں ان تمام مسائل کا حل شامل ہے۔ اب ذمہ داری فون بنانے والی کمپنیوں کی ہے کہ وہ یہ پیچ اپنے کاسٹم سافٹ ویئر میں شامل کر کے جلد از جلد او ٹی اے اپڈیٹ جاری کریں۔
ٹیک ماہرین نے کہا ہے کہ صارفین اپنے فون کو ہمیشہ لیٹیسٹ سیکیورٹی اپڈیٹ پر رکھیں اور تھرڈ پارٹی ایپس اور نامعلوم لنکس سے دور رہیں۔











