اہم ترین

افغان طالبان کے چیف جسٹس اور 3 وزرا پر آسٹریلیا کی مالی اور سفری پابندیاں

آسٹریلوی حکومت نے افغانستان میں طالبان کے چار حکام پر مالی اور سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کی وجہ ملک میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں بتائی گئی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ ان کی حکومت نے افغانستان کے لیے دنیا کی پہلی خود مختار پابندیوں کا فریم ورک تیار کیا ہے، جس کے تحت آسٹریلیا طالبان پر براہِ راست پابندیاں اور سفری پابندیاں عائد کر سکتا ہے تاکہ ان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔یہ فریم ورک اقوام متحدہ کی طالبان پابندیوں کی فہرست پر مبنی 140 افراد اور اداروں کے موجودہ اقدامات کو آگے بڑھاتا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت اسلحے کی پابندی بھی شامل ہے اور افغانستان کو فراہم کی جانے والی متعلقہ خدمات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

جن افغان طالبان حکام پر پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی اور 3 وزرا محمد خالد حنفی، ندا محمد ندیم اور عبدالحکیم شامل ہیں۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان حکام پر پابندیاں خواتین اور لڑکیوں پر ظلم اور حقانون کے نفاذ کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔ نئی پابندیوں میں انسانی امداد کے لیے چھوٹ رکھی گئی ہے تاکہ ضرورت مند افغان شہریوں کو امداد فراہم کی جا سکے۔

طالبان حکومت نے آسٹریلیا کے اس اقدام پر تاحال کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔

پاکستان