انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے پھیلاؤ کے بعد سوشل میڈیا روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر ہر عمر کے افراد اپنی مصروفیات اور زندگی کے لمحات شیئر کر رہے ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کے ذہنی ارتقا پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
امریکا میں کی گئی ایک حالیہ اسٹڈی کے مطابق سوشل میڈیا ایپس پر مسلسل اسکرولنگ اور بار بار آنے والی نوٹیفکیشنز بچوں میں اٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (اے ڈی ایچ ڈی ) جیسی علامات پیدا کر رہی ہیں۔ اس تحقیق میں ہزاروں بچوں کو شامل کیا گیا اور ان کے ڈیجیٹل میڈیا استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق بچے روزانہ اوسطاً 2.3 گھنٹے ٹی وی یا آن لائن ویڈیوز دیکھتے ہیں، 1.5 گھنٹے ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں جبکہ تقریباً 1.4 گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ نتائج سے پتا چلا کہ بچوں میں توجہ کی کمی اور بے چینی کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہے، جبکہ ویڈیو گیمز یا ٹی وی دیکھنے سے ایسے اثرات سامنے نہیں آئے۔
یہ تحقیق سویڈن کے کارولنسکا انسٹیٹیوٹ اور اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی، جو امریکا میں جاری طویل المدتی مطالعے کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مسلسل نوٹیفکیشنز، پیغامات اور اپڈیٹس کے ذریعے بچوں کی توجہ بکھیر دیتے ہیں، جس سے وہ کسی ایک کام پر فوکس برقرار نہیں رکھ پاتے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بچوں کا سوشل میڈیا استعمال تیزی سے بڑھتا ہے۔ جہاں 9 سال کی عمر میں بچہ صرف 30 منٹ سوشل میڈیا پر گزارتا ہے، وہی وقت 13 سال کی عمر میں بڑھ کر 2.5 گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔ ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نظر رکھیں اور اس کے اوقات محدود کریں تاکہ ان کی ذہنی صحت محفوظ رہ سکے۔











