متحدہ عرب امارات میں دیوقامت کرینیں ایک وسیع و عریض اے آئی کیمپس کی تعمیر میں مصروف ہیں، جہاں طویل اور کم اونچائی والی عمارتیں جدید ڈیٹا سینٹرز کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ یہ مرکز پانچ گیگاواٹ بجلی سے چلایا جائے گا اور امریکا کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اے آئی ڈیٹا سینٹر کمپلیکس ہوگا۔
اے ایف پی کے مطابق اس منصوبے کی قیادت اماراتی اے آئی کمپنی جی42 کیا ذیلی ادارہ خازنہ ڈیٹا سینٹرز کر رہا ہے۔ یہ کیمپس 3200 کلومیٹر کے دائرے میں موجود تقریباً چار ارب افراد کو ڈیٹا اسٹوریج اور کمپیوٹنگ سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تیل کے ذریعے صحرائی ریاست سے معاشی اور سفارتی طاقت بننے والا یو اے ای اب مستقبل میں تیل کی طلب کم ہونے کے خدشے کے پیش نظر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو نئی معیشت کی بنیاد بنانا چاہتا ہے۔
خازنہ کے چیف اسٹریٹیجی آفیسر جوہان نیلروڈ کے مطابق، یو اے ای ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود ٹیکنالوجی میں عالمی قیادت حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کو ساتھ لا رہا ہے۔
اے آئی کیمپس کے پہلے مرحلے میں ایک گیگاواٹ پر مشتمل اسٹارگیٹ یو اے ای کلسٹر شامل ہے، جسے اوپن اے آئی آپریٹ کرے گا جبکہ اوریکل، سسکو اور اینویڈیا جیسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس منصوبے کی حمایت کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں مائیکروسافٹ نے 2029 تک یو اے ای میں 15 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ہے۔
یو اے ای نے 2017 میں دنیا کا پہلا اے آئی وزیر مقرر کر کے اور قومی اے آئی حکمتِ عملی متعارف کرا کے اس شعبے میں سنجیدہ قدم رکھا تھا۔ بعد ازاں محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس قائم کی گئی، جبکہ اب کنڈرگارٹن سے ہی اے آئی کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق 2024 کے بعد سے اب تک 147 ارب ڈالر سے زائد رقم اے آئی منصوبوں میں لگائی جا چکی ہے، جن میں فرانس میں ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ یو اے ای اپنی ٹیکنالوجی میں خودکفالت کے لیے تحقیق، مقامی ماڈلز اور روبوٹکس پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور چین اس دوڑ میں آگے ہیں، تاہم وافر توانائی، سرمایہ اور عالمی ٹیلنٹ تک رسائی یو اے ای کو مضبوط پوزیشن دیتی ہے۔ پھر بھی اس تیزی سے بدلتے شعبے میں کامیابی یقینی نہیں۔ ماہرین کے مطابق اے آئی کی دوڑ میں کچھ جیتیں گے اور کچھ پیچھے رہ جائیں گے، لیکن یو اے ای واضح طور پر مستقبل پر بڑا داؤ لگا چکا ہے۔











