پاکستان کے فاسٹ بولر اور وائٹ بال کپتان شاہین شاہ آفریدی آسٹریلیا پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ بگ بیش لیگ میں بریسبین ہیٹ کی جانب سے اہم کردار ادا کریں گے۔ تجربہ کار اسپینسر جانسن کے سیزن سے باہر ہونے اور مائیکل نیسر کے ٹیسٹ مصروفیات کے باعث ٹیم کی بولنگ لائن شاہین پر خاصی حد تک انحصار کرے گی۔
شاہین آفریدی کو جون میں ہونے والے ڈرافٹ میں بریسبین ہیٹ نے پہلی چوائس کے طور پر منتخب کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تینوں شعبوں بولنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے آیا ہوں۔ یہ کوئی چھوٹی لیگ نہیں بلکہ دنیا کی بہترین لیگز میں سے ایک ہے۔
شاہین بگ بیش میں اپنا پہلا میچ پیر کو میلبورن رینیگیڈز کے خلاف کھیلیں گے، جہاں ان کا سامنا اپنے سابق وائٹ بال کپتان محمد رضوان سے ہوگا۔
پاکستان کے دیگر کھلاڑی بھی لیگ میں شریک ہوں گے جن میں بابر اعظم (سسڈنی سکسرز)، حسن علی (ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز)، حارث رؤف (میلبورن اسٹارز) اور شاداب خان (سسڈنی تھنڈر) شامل ہیں۔
شاہین کا کہنا تھا کہ پہلا میچ رضوان کے خلاف ہے، وہ عالمی معیار کے کھلاڑی ہیں۔ بابر بھی یہاں موجود ہیں، سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ امید ہے اچھا کرکٹ دیکھنے کو ملے گا۔
شاہین نے آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک کی تعریف کرتے ہوئے انہیں نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ اسٹارک نے حال ہی میں اپنا 414واں ٹیسٹ وکٹ لے کر وسیم اکرم کا ریکارڈ پیچھے چھوڑا ہے۔
شاہین نے بتایا کہ اسٹارک کے 2015 کے ورلڈ کپ اسپیل کو دیکھ کر ہی انہوں نے اپنی بولنگ میں فلر لینتھ استعمال کرنا سیکھی۔ وہ پہلی بار 16 سال کی عمر میں آسٹریلیا کے دورے پر آئے تھے۔ مقبول ٹیپ بال کرکٹ سے بین الاقوامی سطح تک ان کی تیز ترقی میں اسٹارک کے مشوروں نے اہم کردار ادا کیا۔











