سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آہستہ آہستہ فیض حمید کے کردار سے پردہ اٹھتا جا رہا ہے۔ 9 مئی کے واقعات عمران خان کے لیے برپا کیے گئے تھے اور اس کے ماسٹر مائنڈ جنرل فیض تھے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ پاکستان اور پاک افواج کو نقصان پہنچانے کی کوشش ایک مشترکہ ایڈونچر تھا جس میں عمران خان اور جنرل فیض شامل تھے، اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کی توہین کی گئی، حالانکہ یہی فوج بین الاقوامی مشقوں میں قوم کا سر فخر سے بلند کرتی رہی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اس میٹنگ میں خود موجود تھے جب آبی نندن پکڑا گیا۔ ان کے مطابق اس موقع پر عمران خان اور جنرل فیض شدید دباؤ میں تھے اور جلد بازی میں فیصلے کیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عمران خان اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ برقرار رہتا تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ جو بھی ملکی سالمیت کے خلاف جائے گا اس کا احتساب ہو گا۔
خواجہ آصف نے حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات کو پاکستان کی تاریخ میں بے مثال قرار دیا اور کہا کہ فوجی ادارے نے شفاف طریقے سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سزا سنائی ہے، جبکہ مزید الزامات پر قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا منصوبہ بارہ سال قبل شروع ہوا، لاہور کے پہلے جلسے کی مینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی۔ ان کے مطابق نواز شریف کے دور میں بے مثال ترقی ہوئی، مگر انہیں سپریم کورٹ کے ذریعے من گھڑت طریقے سے ہٹایا گیا۔
وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ نواز شریف کو نااہل کرنا، ان پر مقدمات چلانا اور عمران خان کو اقتدار میں لانا جنرل فیض کی سرپرستی میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل فیض اب جنرل نہیں رہے اور ان سے یہ عہدہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا، اور ان کے چار سالہ دور میں ملک کو شدید نقصان پہنچا، جس کے ذمہ دار عمران خان اور جنرل فیض ہیں۔











