ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مناسب نیند نہ لینا انسانی زندگی کی مدت کم کرنے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے، حتیٰ کہ یہ خراب خوراک، ورزش کی کمی اور سماجی تنہائی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نیند محض آرام نہیں بلکہ ایک بنیادی حیاتیاتی ضرورت ہے جسے نظرانداز کرنا صحت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 16 فیصد افراد انسومنیا (بے خوابی) کا شکار ہیں، جبکہ دنیا بھر میں ہر 10 میں سے 6 بالغ افراد مناسب نیند نہیں لیتے۔ نیند کی کمی کو دل کے امراض، ذیابیطس، موٹاپا، ڈپریشن، ذہنی دباؤ، معدے کے مسائل اور ڈیمنشیا جیسے خطرناک امراض سے جوڑا گیا ہے۔
اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈریو مک ہل کے مطابق، نیند انسانی جسم کے تقریباً ہر نظام پر اثر ڈالتی ہے، مگر بدقسمتی سے اسے اکثر کام، مصروفیات یا سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم نیند کے اثرات صرف وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی ہوتے ہیں اور زندگی کی مدت تک کو متاثر کرتے ہیں۔
امریکی ادارے سی ڈی سی کے 2019 سے 2025 کے دوران ڈیٹا پر مبنی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تمباکو نوشی کے بعد نیند کی کمی وہ سب سے بڑا عنصر ہے جو زندگی کی مدت گھٹاتا ہے۔ چاہے انسان کسی بھی علاقے میں رہتا ہو، نیند کی اہمیت ہر جگہ یکساں ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نیند کو ترجیح بنائیں، سونے اور جاگنے کا ایک مستقل وقت مقرر کریں، سونے سے پہلے موبائل اور اسکرین کے استعمال سے گریز کریں، اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے طریقے اپنائیں۔ کیونکہ نیند عیاشی نہیں بلکہ زندگی کی ضمانت ہے۔











