ڈائیریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب سے اب تک 56 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے باعث ڈی پورٹ کیا جا چکا . جن میں سے 24 ہزار رواں سال ڈی پورٹ ہوئے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندرپار پاکستانیز کے اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا فیصلہ دستاویزات، دستیاب ڈیٹا اور آن لائن ویریفیکیشن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،آف لوڈ کیے گئے مسافروں کے پاس اکثر اپنے کورس، یونیورسٹی یا ملازمت سے متعلق مکمل اور مستند معلومات موجود نہیں ہوتیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ متعدد کیسز میں مسافر ایجنٹس کے ذریعے نامکمل یا غلط معلومات کے ساتھ بیرون ملک سفر کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں روکا جاتا ہے۔متعدد افراد عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
رفعت مختار نے کہا کہ رواں سال بیرون ملک جانے والے 51 ہزار افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ 85 لاکھ افراد بیرون ملک روانہ ہوئے، متعدد افراد عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ رواں سال سعودی عرب نے 24 ہزار، دبئی نے چھ ہزار جبکہ آذربائیجان نے اڑھائی ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزامات پرڈی پورٹ کیا۔سعودی عرب سے اب تک 56 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے باعث ڈی پورٹ کیا جا چکا۔
قائمہ کمیٹی برائے سمندرپار پاکستانیز کو ایک جعلی فٹ بال کلب کے ذریعے کھلاڑیوں کو جاپان بھجوانے کے کیس پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں ایک معذور شخص(لنگڑا) کے جاپان جانے کا انکشاف بھی ہوا۔ بعد ازاں تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہی جعلی کلب سال 2022 میں بھی فٹ بال ٹیم جاپان بھیج چکا











