نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو اسکاٹ ویننک نے کھلاڑیوں اور مقامی ایسوسی ایشنز کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے مستقبل پر طویل اور شدید اختلافات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اسکاٹ ویننک دو سال سے کچھ زائد عرصہ قبل نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئے تھے۔وہ 30 جنوری کو باضابطہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
تنازع کی بنیادی وجہ ایک نئی مجوزہ فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے، جسے عارضی طور پر این زی 20 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ لیگ موجودہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ سپر اسمیش کی جگہ لے سکتی ہے اور اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکیت کی اجازت دی جائے گی، جس میں ممکنہ طور پر آئی پی ایل فرنچائزز بھی شامل ہوں گی۔
کھلاڑیوں اور نیوزی لینڈ کی 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کا ماننا ہے کہ این زی 20 وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ نیوزی لینڈ اس وقت آئی سی سی کا واحد فل ممبر ملک ہے جس کے پاس اپنی فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگ موجود نہیں۔
دوسری جانب اسکاٹ ویننک مبینہ طور پر اس کے حق میں تھے کہ نیوزی لینڈ کی کوئی ٹیم آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں شامل ہو۔
اپنے بیان میں ویننک نے کہا کہ ان کے بعض رکن ایسوسی ایشنز کے درمیان نیوزی لینڈ کرکٹ کی ترجیحات پر اختلافات ہیں، اسی لئے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
نیوزی لینڈ کے ٹیسٹ کپتان ٹام لیتھم اور وائٹ بال کپتان مچل سینٹنر نے نئی این زی 20 لیگ کی کھل کر حمایت کی ہے۔ ٹام لیتھم کے مطابق یہ لیگ ملک میں کرکٹ کے معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور عالمی کھلاڑیوں کی آمد سے فائدہ ہوگا۔
اسکاٹ ویننک نے کہا کہ وہ ادارے میں مزید عدم استحکام پیدا نہیں کرنا چاہتے، تاہم انہوں نے اپنے دور کو کامیاب قرار دیا اور مستقبل میں نیوزی لینڈ کرکٹ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔











