میٹا مبینہ طور پر فیس بک پر ایک نیا تجربہ کر رہا ہے، جس کے تحت صارفین کی جانب سے پوسٹس میں شیئر کیے جانے والے لنکس کی تعداد محدود کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مستقبل میں فیس بک پوسٹس میں لنکس شیئر کرنے کے لیے صارفین کو پیسے بھی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔
برطانیہ اور امریکا کے کچھ صارفین کو فیس بک کی جانب سے نوٹیفکیشن موصول ہوا ہے، جس میں بتایا گیا کہ وہ بغیر سبسکرپشن کے فیس بک پوسٹس میں صرف محدود تعداد میں ہی لنکس شامل کر سکتے ہیں۔ بعض صارفین کے لیے یہ حد صرف دو لنکس تک مقرر کی گئی ہے۔
میٹا کے مطابق یہ ایک آزمائشی مرحلہ ہے، جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کیا زیادہ لنکس شیئر کرنے کی سہولت صارفین کے لیے اضافی فائدہ ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔
سوشل میڈیا ماہر میٹ نووارا کا کہنا ہے کہ میٹا دراصل اپنے پلیٹ فارم سے آمدن بڑھانا چاہتا ہے، اسی لیے فیس بک پوسٹس میں لنکس شیئر کرنے پر فیس لینے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، بغیر میٹا ویریفائیڈ سبسکرپشن کے لنکس شیئر کرنے پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق، اگر صارف 9.99 پاؤنڈ ماہانہ یا اس سے زیادہ فیس ادا کرے تو اسے زیادہ لنکس شیئر کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ میٹا ویرِفائیڈ سبسکرپشن کے تحت فیس بک اور انسٹاگرام پر بلیو ٹک، بہتر اکاؤنٹ سیکیورٹی اور سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
اس نئے اقدام سے سب سے زیادہ نقصان کانٹینٹ کریئیٹرز اور چھوٹے کاروباروں کو پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ یہ طبقہ فیس بک کو اپنی ویب سائٹس یا مصنوعات کی تشہیر کے لیے بطور ٹریفک سورس استعمال کرتا ہے۔
تھریڈز پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق، فیس بک نے ٹیک کرنچ کو بتایا کہ لنکس کی حد والا یہ تجربہ فی الحال صرف پروفیشنل موڈ یا کچھ مخصوص پیجز تک محدود ہے۔
میٹ نووارا کا کہنا ہے کہ کریئیٹرز کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ فیس بک اب قابلِ اعتماد ٹریفک سورس نہیں رہا۔ ان کے مطابق، میٹا ہمیشہ اپنے فائدے کو ترجیح دیتا ہے، اور اس طرح کی ٹیسٹنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صرف ایک پلیٹ فارم پر انحصار کر کے بزنس کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔











