آجکلاو ٹی ٹی پلیٹ فارمز کا دور ہے۔ مادھوری ڈکشت اور جوہی چاولہ کی طرح ماضی کی کئی اداکارائیں ویب سیریز کے ذریعے شوبز میں کامیاب انٹری دے چکی ہیں اور ان اداکاراؤں میں ارمیلا ماٹونڈکر بھی شامل ہوگئی ہیں۔
کئی برسوں سے فلمی پردے سے دور رہنے والی بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اُرمیلا ماٹونڈکر کے بارے میں یہ تاثر عام ہو چکا تھا کہ شاید انہوں نے شوبز کو خیرباد کہہ دیا ہے، مگر اب اداکارہ نے خود سامنے آ کر ان تمام قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
اُرمیلا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی اداکاری نہیں چھوڑی، بلکہ وہ صرف ایسے کرداروں کی منتظر تھیں جو ان کی صلاحیتوں اور تجربے کے ساتھ انصاف کر سکیں۔ ان کے مطابق اب ایک بار پھر انہیں دلچسپ اور مضبوط کرداروں کی پیشکشیں مل رہی ہیں اور وہ بہت جلد او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر اپنی اننگز کا آغاز کرنے والی ہیں۔
ایک انٹرویو میں اُرمیلا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے کام کے انتخاب میں محتاط رہی ہیں۔ اگر لوگ یہ سمجھتے رہے کہ وہ فلمیں نہیں کرنا چاہتیں تو یہ فطری بات ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اداکاری سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔
اداکارہ نے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کو فنکاروں کے لیے ایک نئی دنیا قرار دیا اور کہا کہ یہاں ایسے کردار اور کہانیاں سامنے آ رہی ہیں جن کی ماضی میں گنجائش کم تھی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ایک ویب شو کی شوٹنگ مکمل کر چکی ہیں، جو ممکنہ طور پر اگلے سال ریلیز ہوگا۔
اپنے شاندار کیریئر کو یاد کرتے ہوئے اُرمیلا نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ وہ کبھی ایک ہی قسم کے کردار میں محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے ہر فلم میں خود کو نئے انداز میں پیش کیا اور یہی ان کی پہچان بنی۔
فلم ’نرسنہا‘ سے مرکزی کردار میں قدم رکھنے والی اُرمیلا نے رنگیلا، ستیہ، کون، بھوت، جدائی اور پنجر جیسی یادگار فلموں کے ذریعے خود کو ایک ورسٹائل اداکارہ کے طور پر منوایا۔
تنخواہوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اُرمیلا نے کہا کہ اگرچہ آج انڈسٹری کا مالی ڈھانچہ پہلے سے بہتر ہو چکا ہے، مگر انہیں اپنے معاوضے پر کبھی شکایت نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ 90 کی دہائی میں وہ سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں شامل تھیں اور بعض فلموں میں انہیں اپنے مرد ساتھی اداکاروں سے بھی زیادہ فیس دی گئی۔
اُرمیلا کے مطابق فلم انڈسٹری میں تنخواہوں کے فرق جیسے مسائل کو صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ گزشتہ تین دہائیوں میں پورا نظام اور سوچ بدل چکی ہے۔
اب شائقین کو انتظار ہے اُرمیلا ماتونڈکر کی اس نئی اننگز کا، جو تجربے، پختگی اور مضبوط کرداروں کے ساتھ سامنے آنے والی ہے۔











