اہم ترین

کرپٹومائننگ روس اور ایران پربین الاقوامی پابندیوں کا توڑ بن گئی

گزشتہ چند برسوں میں کرپٹو کرنسی کا شعبہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلا ہے اور اس کے ساتھ ہی کرپٹو مائننگ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب روس کی کرنسی روبل میں حالیہ مضبوطی کے پیچھے بھی کرپٹو مائننگ کو ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سینٹرل بینک آف رشیا (سی بی آر) نے اعتراف کیا ہے کہ روبل کی قدر میں بہتری کے پیچھے بٹ کوائن مائننگ کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

سی بی آر کی چیئرپرسن الویرا نبیولینا کے مطابق، کرپٹو مائننگ نے روبل کو سہارا دیا ہے، تاہم اس کے اصل اثرات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ کرپٹو مائننگ کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر ریگولیٹڈ ہے اور غیر قانونی سرگرمیاں اس میں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ روس نے گزشتہ سال کرپٹو مائننگ کو ریگولیٹ کیا، لیکن اس کے باوجود غیر قانونی مائنرز کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 110 روبل سے کچھ زیادہ تھی، جو اب کم ہو کر 80 روبل کے آس پاس آ گئی ہے۔

حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ کرپٹو مائننگ سے جڑے فنڈز کا درست تخمینہ لگانا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے روبل کے مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق کرپٹو مائننگ روس کے لیے ایک “چھپا ہوا ایکسپورٹ” بن چکی ہے جو ملک کے فارن ایکسچینج مارکیٹ پر اثر ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر ایران کرپٹو کرنسی مائننگ میں چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایران میں تقریباً 1.3 کروڑ افراد کسی نہ کسی شکل میں کرپٹو مارکیٹ سے وابستہ ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، تہران صوبے کی الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے سی ای او اکبر حسن بیکلو نے بتایا کہ ایران میں تقریباً 4.27 لاکھ کرپٹو مائننگ ڈیوائسز کام کر رہی ہیں، جن سے یومیہ 1,400 میگاواٹ سے زائد بجلی استعمال ہو رہی ہے۔ سستی بجلی کی وجہ سے غیر قانونی مائنرز کو فائدہ ہو رہا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔

اس مہم کے تحت تہران صوبے میں 104 غیر قانونی مائننگ فارمز پکڑے گئے ہیں اور 1,465 مائننگ ڈیوائسز ضبط کی جا چکی ہیں۔

پاکستان