اہم ترین

شوگر فری یا شوگر فریب؟ مصنوعی مٹھاس بھی جگرکا نقصان کرتی ہے: نئی تحقیق

میٹھا کم، خطرہ زیادہ؟ شوگر فری لکھا دیکھ کر سکھ کا سانس لینے والوں کے لیے چونکا دینے والی خبر آ گئی ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ سوربیٹول جیسے شوگر سبسٹی ٹیوٹس، جنہیں صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، درحقیقت جسم میں جا کر وہی کام کر سکتے ہیں جو عام چینی کرتی ہے۔

مشہور سائنسی جریدے سائنس سگنلنگ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سوربیٹول صرف ایک کیمیائی قدم کے فاصلے پر فریکٹوز بن جاتا ہے، اور فریکٹوز وہی عنصر ہے جسے جگر کی چربی، میٹابولک مسائل اور حتیٰ کہ کینسر کے خلیات کی افزائش سے جوڑا جا چکا ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر گیری پیٹی کے مطابق، مسئلہ صرف وہ سوربیٹول نہیں جو ہم چیونگم یا شوگر فری مٹھائیوں سے کھاتے ہیں، بلکہ ہمارا جسم خود بھی سوربیٹول بنا لیتا ہے۔ آنتوں میں موجود انزائمز گلوکوز کو سوربیٹول میں بدل دیتے ہیں، جو بعد میں جگر پہنچ کر فریکٹوز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آنتوں میں مخصوص اچھے بیکٹیریا موجود ہوں تو وہ سوربیٹول کو بے ضرر بنا سکتے ہیں، لیکن اگر یہ بیکٹیریا نہ ہوں یا خوراک میں شوگر اور سوربیٹول حد سے زیادہ ہو جائے تو یہی شوگر فری چیزیں خاموشی سے جگر کو نقصان پہنچانے لگتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق قدرتی پھلوں میں موجود تھوڑی مقدار عام طور پر محفوظ ہوتی ہے، مگر پروسیسڈ فوڈز، شوگر فری کینڈی، گمز اور پروٹین بارز میں چھپا سوربیٹول خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

پروفیسر پیٹی کے الفاظ میں شوگر کے متبادل میں بھی کوئی مفت فائدہ نہیں، آخرکار راستہ جگر تک ہی جاتا ہے۔

یہ تحقیق اس خیال کو چیلنج کر رہی ہے کہ شوگر الکحلز مکمل طور پر محفوظ ہیں، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’’شوگر فری‘‘ کا لیبل ہر بار صحت کی ضمانت نہیں ہوتا۔

پاکستان