لیبیا کی مسلح افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد الحداد اور چار دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ ترکیہ سے واپسی کے دوران طیارہ گرنے سے جاںبحق ہو گئے۔ واقعے میں طیارے کے تین کریو ممبرز بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ترک حکام کے مطابق لیبیا کے فوجی حکام کو لے جانے والا فالکن 50 بزنس جیٹ انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تھا، مگر تقریباً 42 منٹ بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں سیکیورٹی ٹیموں نے طیارے کا ملبہ انقرہ کے قریب حیامانہ ضلع میں دریافت کیا۔
ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا کے مطابق، طیارے نے فضا میں ایمرجنسی لینڈنگ کی درخواست دی تھی۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ اڑان بھرنے کے تقریباً 16 منٹ بعد بجلی کے نظام میں خرابی پیدا ہوئی، جس کے باعث پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا، مگر دوبارہ کنٹرول قائم نہ ہو سکا۔
حادثے کے وقت علاقے میں موجود ایک مقامی شہری نے بتایا کہ انہوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی، ایسا لگا جیسے بم پھٹ گیا ہو۔
ترک میڈیا نے بھی آسمان میں روشنی اور دھماکے کی فوٹیجز نشر کیں۔
لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے سوشل میڈیا پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جنرل الحداد کی موت کو ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
حادثے میں جنرل الحداد کے مشیر محمد الاساوی، میجر جنرل الفیتوری غریبیل، میجر جنرل محمد جمعہ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار محمد المحجوب بھی ہلاک ہوئے۔
ترکیہ کے وزیر انصاف یلماز تونچ نے بتایا کہ انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر آفس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لیبیا کے سفیر بھی جائے حادثہ پر موجود رہے۔
جنرل محمد الحداد 2020 سے لیبیا کے چیف آف جنرل اسٹاف تھے۔ لیبیا اس وقت دو متوازی حکومتوں میں تقسیم ہے—ایک طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت اور دوسری مشرقی لیبیا میں کمانڈر خلیفہ حفتر کی انتظامیہ۔
ترکیہ کے طرابلس حکومت سے قریبی فوجی اور سفارتی تعلقات ہیں، اگرچہ حالیہ مہینوں میں انقرہ نے مشرقی لیبیا سے بھی روابط بڑھائے ہیں۔











