پاکستان سمیت دنیا بھر کے کیتھولک اور پروٹسنٹ مسیحی آج کرسمس کا تہوار منارہے ہیں ۔ لیکن بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کے بعد اب عیسائیوں کی بھی مذہبی آزادی پر قدغن لگانی شروع کردی ہے۔
کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو درپیش مشکلات، تقریبات میں مداخلت اور بعض مقامات پر دباؤ و ہراسانی کے واقعات نے ایک بار پھر مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور ریاستی ذمہ داری سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔
ملک کی کئی ریاستوں سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں کرسمس کی تقریبات یا تو محدود کر دی گئیں، یا انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔
بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش حکومت نے رواں برس سرکاری اسکولوں میں کرسمس کی تعطیل منسوخ کرتے ہوئے اس دن سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی سالگرہ منانے کی ہدایت جاری کی۔
ہریانہ کے شہر حصار میں 160 سال پرانے گرجا گھرکے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، کیونکہ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے کرسمس کے دن چرچ کے قریب متوازی مذہبی سرگرمیوں کا اعلان کیا۔
ممبئی میں بمبے کیتھولک سبھا اور دیگر تنظیموں نے الزام لگایا کہ کرسمس سیزن کے دوران کارول گانے والوں کو روکا گیا، سجاوٹ ہٹانے پر زور دیا گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں بھی کرسمس کی بعض تقریبات میں مداخلت کے واقعات سامنےآئے ہیں۔ اسی طرح مدھیہ پردیش اور کرناٹک کے بعض علاقوں میں اسکولوں اور کمیونٹی ہالز میں کرسمس تقریبات پر اعتراضات سامنے آئے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی آبائی ریاست گجرات کے قبائلی علاقوں میں بعض مقامات پر بھی کرسمس کا تہوار منانے سے روکاگیا۔
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی گئی ہیں جن میں جتھے بعض جگہوں پر سانتا کلاز کے لباس یا کارول گانے سے روک رہےہیں۔











