دبئی میں یکم جنوری 2026 سے سنگل یوز پلاسٹک پر مکمل پابندی کے نفاذ سے قبل بڑے سپرمارکیٹس اور ریٹیل اسٹورز نے ماحول دوست متبادل مصنوعات متعارف کرانا شروع کر دی ہیں۔ دبئی میونسپلٹی کی جانب سے نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد دکانوں کو پلاسٹک مصنوعات شیلف سے ہٹانے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔
دبئی میں پلاسٹک کی بنی ڈسپوزیبل پلیٹس، چمچ، کانٹے اور چوپ اسٹکس، پلاسٹک کپ اور ان کے ڈھکن، اسٹائروفوم کپ اور فوڈ کنٹینرز، پلاسٹک اسٹراز اور اسٹیررز کے علاوہ پلاسٹک کاٹن بڈز اور پلاسٹک ٹیبل کورز پر پابندی لگادی گئی ہے۔
ان تمام اشیا کی جگہ کاغذ، لکڑی، بیگاس (گنے کے ریشے)، اور دیگر بایو ڈیگریڈیبل یا دوبارہ استعمال ہونے والی اشیاء لائی جا رہی ہیں۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد متحدہ عرب امارات کے نیٹ زیرو 2050 ہدف اور سرکلر اکانومی وژن کو فروغ دینا ہے۔۔
بڑے ریٹیلرز کی پیش رفت
خلیجی ممالک میں سب سے بڑی ڈپارٹمینٹل اسٹورز چین لولو گروپ کے مطابق انہوں نے پہلے ہی ڈسپوزایبل پلاسٹک مصنوعات کی فروخت کم کرنا شروع کر دی ہے اور اب ری سائیکل شدہ کاغذ اور ماحول دوست متبادل مصنوعات کو نمایاں سیکشنز میں رکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین میں ان مصنوعات کی مانگ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی طرح گرینڈوز ریٹیل نے بتایا کہ وہ 2018 سے پلاسٹک بیگز ختم کرنے کے عمل پر کام کر رہے ہیں اور اب مکمل طور پر کمپوسٹیبل اور دوبارہ استعمال کے قابل مصنوعات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ کمپنی نے ری سائیکل شدہ سمندری پلاسٹک سے بنی شاپنگ ٹرالی بھی متعارف کرا دیے ہیں، جس سے کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئی ہے۔
قیمتوں پر اثر؟
ریٹیلرز کے مطابق ماحول دوست مصنوعات کی قیمت بعض اوقات قدرے زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم زیادہ تر ادارے اضافی لاگت خود برداشت کر رہے ہیں تاکہ صارفین پر بوجھ نہ پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ان مصنوعات کی دستیابی بڑھے گی، قیمتوں میں فرق بھی کم ہوتا جائے گا۔











