اہم ترین

بھارتی فوج میں ہنی ٹریپنگ کے واقعات: مودی سرکار کو سوشل میڈیا پالیسی بدلنی پڑگئی

بھارتی فوج نے اپنی سوشل میڈیا پالیسی میں اہم تبدیلی کی ہے۔ اب فوجی اور افسران انسٹاگرام صرف مواد دیکھنے اور نگرانی کے لیے استعمال کر سکیں گے، جبکہ کسی بھی پوسٹ کو شیئر، لائک یا تبصرہ کرنے پر پابندی ہوگی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2019 تک فوج کے جوان کسی بھی سوشل میڈیا گروپ کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔ 2020 میں قوانین کو مزید سخت کیا گیا اور فوجیوں کو فیس بک اور انسٹاگرام سمیت 89 موبائل ایپس کو ڈیلیٹ کرنے کے احکامات دیئے گئے تھے۔

اس کے باوجود فوج نے کچھ پلیٹ فارمز جیسے فیس بُک، یوٹیوب، ایکس، لنکڈ ان، کوورا، ٹیلیگرام اور واٹس ایپ کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔

تاہم اب ایک مرتبہ پھر پالیسی میں مزیدسختی کی ہے۔ یہ رہنما اصول تمام فوجی یونٹوں اور محکموں میں نافذ کر دیے گئے ہیں۔

نئے قوانین کا مقصد فوجیوں کو جعلی یا گمراہ کن معلومات کی شناخت میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اگر فوجی کسی مشکوک پوسٹ کا مشاہدہ کریں تو وہ اسے اپنے اعلیٰ افسران کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔

پالیسی میں یہ سختی اس لیے کی گئی ہے تاکہ غیر ملکی ایجنسیوں کے ہنی ٹریپ یا حساس معلومات کے لیک ہونے جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔

پاکستان