اہم ترین

خبردار! وزن نہیں صحت جانچیں: ماہرین نے بی ایم آئی پر سوال کھڑے کردیئے

اکثر لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ “میرا وزن کتنا ہونا چاہیے؟” لیکن ماہرین صحت کے مطابق اس سوال کا کوئی ایک سادہ جواب نہیں۔ ہر انسان کا جسم مختلف ہوتا ہے، اس لیے ایک ہی وزن سب کے لیے مثالی نہیں ہو سکتا۔

اگرچہ باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، کمر اور کولہوں کا تناسب، یا جسمانی چربی کی شرح جیسے ٹولز ایک عمومی اندازہ دیتے ہیں، مگر یہ مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کا دارومدار صرف وزن پر نہیں بلکہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مجموعی طرزِ زندگی پر ہوتا ہے۔

بی ایم آئی کیا ہے اور یہ کتنا قابلِ اعتماد ہے؟

بی ایم آئی یعنی باڈی ماس انڈیکس قد اور وزن کے تناسب سے نکالا جاتا ہے اور اسے عام طور پر وزن جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

باڈی ماس انڈیکس کی کیٹیگریز:

بی ایم آئی میں 18.5 سے کم کو لاغر ، 18.5سے24.9 کو صحت مند وزن، 25سے 29.9 کو زائد وزن، 30 یا اس سے زیادہ کو موٹاپا کہا جاتاہے۔

تاہم امریکی سی ڈی سی کے مطابق باڈی ماس انڈیکس جسم میں چربی، پٹھوں یا چربی کی تقسیم کو نہیں بتاتا، اس لیے یہ حتمی پیمانہ نہیں۔

مثال کے طور پر کھلاڑیوں کا باڈی ماس انڈیکس زیادہ ہو سکتا ہے، مگر وہ مکمل طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔

باڈی ماس انڈیکس پر اعتراضات کیوں؟

تحقیقات کے مطابق باڈی ماس انڈیکس نسل، جنس اور جسمانی ساخت کو مدنظر نہیں رکھتا۔ بعض قومیتوں میں چربی کی تقسیم مختلف ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے غلط تشخیص کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

اسی لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ باڈی ماس انڈیکس کو دیگر طبی ٹیسٹوں کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

کمر سے صحت کا کیا تعلق ہے؟

کمر اور کولہوں کے تناسب سے پیٹ کی چربی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ زیادہ ویسٹ ہپ ریشو دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق:

مرد کا ویسٹ ہپ ریشو 0.9 جبکہ خواتین کا 0.85 سے زیادہ ہو تو خطرناک تصور کیاجاتا ہے۔

کمر کا قد سے تناسب اگر 0.5 سے زیادہ ہو تو صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

2023 کی ایک تحقیق کے مطابق کمر اور قد کے درمیان تناسب جتنا زیادہ ہوگا ۔ قبل از وقت موت کا خطرہ 23فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔ جبکہدل کی بیماریوں سے موت کا خطرہ 39 تک بڑھ سکتا ہے۔

جسمانی چربی کی شرح

یہ پیمانہ باڈی ماس انڈیکس سے زیادہ درست سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم میں موجود چربی کی اصل مقدار بتاتا ہے۔

چربی جسم کے لیے ضروری بھی ہے، مگر اس کی زیادتی ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور فالج جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

چربی ناپنے کے لئے اسکن فولڈ کیلپر، بائیو الیکٹریکل امپیڈنس، ڈیکسا اسکین اور پانی میں وزن کرنے جیسے طریقے استعمال کئےجاتےہیں۔ یہ تمام طریقے بھی صرف اندازہ دیتے ہیں حتمی نتیجہ نہیں۔

ماہرین کا مشورہ

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ صرف وزن نہیں، مکمل صحت کو دیکھیں۔ اگر آپ کو اپنی صحت یا وزن کے بارے میں تشویش ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

پاکستان