گوگل پروجیکٹ سن کیچر کے تحت 81 سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کا منصوبہ رکھتا تھا، جو سورج کی توانائی سے چلنے والے اے آئی پروسیسرز کے ذریعے ڈیٹا پراسیس کر کے زمین پر منتقل کرتے۔ لیکن اب یہ خلا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹر بنانے کا خواب چکنا چور ہوتا نظر آ رہا ہے۔
پروجیکٹ سن کیچر کا مقصد زمین پر توانائی کے دباؤ کو کم کرنا تھا، تاہم ماہرین کے مطابق خلا میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اس منصوبے کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ یہ سیٹلائٹس ایک دوسرے سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر گردش کرتے، جہاں لاکھوں خلائی ملبے کے ٹکڑے انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کر رہے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی ایک معمولی تصادم سے بھی تباہ کن سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید ملبہ پیدا ہوگا اور پوری سیٹلائٹ کنسٹیلیشن خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسے کیسلر سنڈروم کہا جاتا ہے، جس میں ایک حادثہ متعدد ٹکراؤ کو جنم دیتا ہے اور اہم مدارات ناقابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔
اسپیس ڈاٹ کوم کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں پہلے ہی ہزاروں مصنوعی اشیاء موجود ہیں جن میں ناکارہ سیٹلائٹس، راکٹ کے حصے اور خلائی ملبہ شامل ہے۔ خاص طور پر سن-سنکرونس مدار، جہاں مسلسل سورج کی روشنی ملتی ہے، اب حد سے زیادہ بھیڑ کا شکار ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس کو اس قدر قریب رکھنا تکنیکی طور پر نہایت مشکل ہے، کیونکہ خلائی موسم اور مدار کی رگڑ ان کی پوزیشن غیر متوقع طور پر بدل سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر سیٹلائٹس خودکار ٹکراؤ سے بچاؤ کے نظام سے لیس نہ ہوں تو انہیں ریئل ٹائم میں ہم آہنگ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
اگرچہ امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کے قوانین اور مدار استعمال فیس جیسے اقدامات موجود ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدامات تصادم کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔ بغیر مؤثر ملبہ مینجمنٹ کے، پروجیکٹ سن کیچر خلا میں پہلے سے موجود خطرناک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔











