دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی ) کے فوائد کے چرچے ہیں، مگر ماہرین اب اس کے ایک خطرناک پہلو سے خبردار کر رہے ہیں۔ نئی تحقیقات کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس سے حد سے زیادہ اور طویل گفتگو انسان کو ایک سنگین ذہنی بیماری سائیکوسس میں مبتلا کر سکتی ہے، جس میں حقیقت اور وہم کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اے آئی بظاہر انسان کو معلومات فراہم کرتا ہے، لیکن مسلسل استعمال کی صورت میں یہ ذہن کے ساتھ ایسا کھیل کھیلتا ہے کہ انسان خود اپنے خیالات کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے، اور چیٹ بوٹ انہی خیالات کو واپس سچ مان کر ریفلیکٹ کر دیتا ہے۔ یوں انسان ایک خطرناک وہم کے دائرے میں پھنس جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سائیکوسس ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کا حقیقت سے رابطہ کمزور ہو جاتا ہے۔ مریض خیالی اور حقیقی دنیا میں فرق نہیں کر پاتا اور اس کے خیالات، جذبات اور رویے شدید متاثر ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد میں لوگوں سے دوری اور تنہائی پسندی، فیصلہ کرنے میں دشواری، عجیب و غریب خیالات یا شدید جذباتی اتار چڑھاؤ، ذاتی صفائی اور خود کی دیکھ بھال سے غفلت، نیند کی شدید کمی، حقیقت اور تخیل میں فرق نہ کر پانا، بولنے اور بات سمجھانے میں دقت اور تعلیم یا ملازمت میں کارکردگی کا زوال جیسی علامات نظر آتی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق گزشتہ 9 ماہ میں درجنوں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں افراد نے اے آئی چیٹ بوٹس سے طویل اور مبہم گفتگو کے بعد سائیکوسس جیسی علامات ظاہر کیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کیتھ سکاتا کے مطابق کمپیوٹر خود وہم پیدا نہیں کرتا، بلکہ انسان اپنی حقیقت مشین کو بتاتا ہے، اور مشین اسے سچ مان کر واپس دہرا دیتی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض افراد میں یہ ذہنی کیفیت اتنی بگڑ گئی کہ انہوں نے خودکشی جیسے انتہائی قدم بھی اٹھائے، جس پر کئی قانونی مقدمات بھی دائر کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین اور تعلیمی ادارے اب ان واقعات کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ اے آئی کے نفسیاتی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔











