اہم ترین

بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں

بنگلا دیش کی سیاست کی اہم اور بااثر شخصیت، سابق وزیرِ اعظم اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیاء طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق بی این پی کی جانب سے منگل کے روز کی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق وہ جگر کے عارضے (لیور سروسس) میں مبتلا تھیں، جبکہ ذیابیطس، گٹھیا اور دل کی بیماری جیسے امراض کا بھی شکار رہیں۔

خالدہ ضیاء بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ انہوں نے ایسے وقت میں قیادت سنبھالی جب ملکی سیاست عدم استحکام، فوجی مداخلت اور شدید سیاسی کشمکش کا شکار تھی۔ ان کا شمار ان خواتین رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلم دنیا میں جمہوری سیاست کے میدان میں خود کو منوایا۔

ان کی پیدائش 15 اگست 1945 کو دناج پور میں ہوئی۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی خالدہ ضیاء نے ابتدائی طور پر گھریلو زندگی کو ترجیح دی اور سیاست سے دور رہیں۔ ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب ان کے شوہر ضیاء الرحمان، جو بنگلا دیش کے صدر اور فوجی پس منظر کے حامل تھے، 1981 میں ایک بغاوت کے دوران قتل کر دیے گئے۔ اس سانحے کے بعد انہوں نے ملکی سیاست میں قدم رکھا اور بی این پی کی قیادت سنبھالی۔

خالدہ ضیاء نے فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خلاف جمہوری جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں بنگلا دیش میں جمہوری نظام کی بحالی ممکن ہوئی۔ 1991 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ بعد ازاں وہ دو مرتبہ اس منصب پر فائز رہیں۔

ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے، مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے اور علاقائی تعاون کی حمایت پر زور دیا گیا۔ پاکستان میں انہیں ایک ایسی بنگلا دیشی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا رہا جو ماضی کے تلخ واقعات کے باوجود مستقبل کی بنیاد تعلقات کی بہتری پر رکھنا چاہتی تھیں۔

اگرچہ ان کے سیاسی ادوار تنازعات اور الزامات سے خالی نہ رہے، تاہم ان کے حامی انہیں جمہوریت کی علمبردار اور ایک مضبوط سیاسی کردار کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی وفات بنگلا دیشی سیاست میں ایک عہد کے خاتمے کے مترادف قرار دی جا رہی ہے۔

خالدہ ضیاء کا انتقال جنوبی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم لمحہ ہے، جہاں ان کی جدوجہد، قیادت اور سیاسی وراثت طویل عرصے تک زیرِ بحث رہے گی۔

پاکستان