ایک نئی سائنسی تحقیق نے ٹیک آؤٹ اور ڈیلیوری فوڈ کے شوقین افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بین الاقوامی سائنس جرنل فوڈسائنسز اینڈ نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک مطالعاتی تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ باہر کا کھانا کھاتے ہیں ان کے جسم میں ہلکی سطح کی دائمی سوزش بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جو دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
تحقیق میں امریکا کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے کے 8556 افراد کے تقریباً 10 سالہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کی خوراک، خون کے نمونے اور دل سے جڑی صحت کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کےدوران دیکھاگیا کہ باہر کا کھانا زیادہ کھانے والوں میں زیادہ ٹیک آؤٹ کھانے والوں میں ڈائٹری انفلیمیٹری انڈیکس زیادہ پایا گیا، جو جسم میں سوزش کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔
ایسے افراد میں اچھا کولیسٹرول کم جبکہ ٹرائی گلسرائیڈز، شوگر، انسولین اور انسولین ریزسٹنس زیادہ پائی گئی۔ اگرچہ براہِ راست تعلق حتمی طور پر ثابت نہ ہو سکالیکن زیادہ ٹیک آؤٹ کھانے والوں میں اموات کا رجحان زیادہ تھا
امریکی ماہرِ قلب ڈاکٹر جین مورگن کے مطابق ٹیک آؤٹ فوڈ کا نقصان کسی ایک جز سے نہیں بلکہ نمک، غیر صحت بخش چکنائی، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، اضافی چینی اور پروسیسڈ اجزا کے مجموعے سے ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہزیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، خراب چکنائیاں شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، بار بار گرم کیے گئے تیل دل میں پلاک بننے کا سبب بنتے ہیں اور ٹیک آؤٹ فوڈ خواتین میں انسولین ریزسٹنس زیادہ تیزی سے بڑھاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موبائل ایپس، مصروف شیڈول اور وقت کی کمی نے کھانا پکانے کی عادت کم اور ڈلیوری فوڈ کو نارمل بنا دیا ہے، جس کا نتیجہ موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
ماہر غذائیت مشیل روتھنسٹین کے مطابق مکمل پرہیز کے بجائے اسمارٹ انتخاب ضروری ہے۔ فرائی کے بجائے گرِلڈ کھانا، فرائز کی جگہ سبزی یا سلاد،میٹھے مشروبات کے بجائے پانی کوترجیح دیں۔ ساتھ ہی اپنےکھانوں میں پھل، سبزیاں، دالیں اور مچھلی شامل کریں۔
ماہرین کے مطابق گھریلو کھانوں میں نمک ٹیک آؤٹ کے مقابلے میں تقریباً 75فیصد کم ہوتا ہے۔ فائبر اور صحت مند چکنائیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ جس سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں رہتا ہے۔











