جرمنی کے مغربی شہر گیلزین کرشن میں کرسمس کی تعطیلات کے دوران ایک ایسی بینک ڈکیتی سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا۔ نامعلوم چوروں نے اسپارکاسے (Sparkasse) بینک کے زیرِ زمین والٹ میں نقب لگا کر نقدی، سونا اور قیمتی زیورات چرا لیے، جن کی مجموعی مالیت 10 سے 90 ملین یورو (تقریباً 10 کروڑ ڈالر ) تک بتائی جا رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ مطابق ملزمان نے ایک قریبی پارکنگ گیراج سے بینک کی موٹی کنکریٹ دیوار میں بھاری ڈرل کے ذریعے سوراخ کیا اور زیرِ زمین والٹ تک رسائی حاصل کی۔ وہاں موجود 3250 سیف ڈپازٹ باکسز میں سے 95 فیصد سے زائد کو توڑ دیا گیا۔
پولیس ترجمان تھامس نوواکزک کا کہنا ہے کہ یہ واردات انتہائی منظم اور پیشہ ورانہ تھی۔اس کے پیچھے غیرمعمولی منصوبہ بندی اور مجرمانہ مہارت شامل ہے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ چور طویل کرسمس ویک اینڈ کے دوران کئی دن تک عمارت کے اندر موجود رہے اور آرام سے سیف باکسز کھولتے رہے، کیونکہ تمام کاروبار بند تھے۔
ڈکیتی کا انکشاف پیر کی صبح اُس وقت ہوا جب فائر الارم بجا۔ ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے تو والٹ تک جانے والا بڑا سوراخ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات چند افراد بڑے بیگ اٹھائے پارکنگ گیراج کی سیڑھیوں سے گزرتے دکھائی دیے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک سیاہ کار بھی نظر آئی، جس میں نقاب پوش افراد سوار تھے۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ ہینوور سے چوری شدہ تھی۔
پولیس نے اس واردات کو ہالی ووڈ فلم اوشئینز الیون سے مشابہ قرار دیا ہے۔
بینک کے مطابق ہر سیف باکس کی اوسط بیمہ شدہ مالیت 10 ہزار یورو تھی، مگر کئی صارفین نے بتایا کہ ان کے نقصان کی رقم بیمے سے کہیں زیادہ ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں متاثرہ صارفین بینک کے باہر جمع ہو گئے اور جواب مانگتے رہے۔
بینک نے متاثرہ صارفین کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے اور انشورنس کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔بینک کے ترجمان فرینک کرالمان نے کہا کہ ہم صدمے میں ہیں، لیکن اپنے صارفین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان تاحال فرار ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔











