اہم ترین

گروک کا اسپائسی موڈ : بچوں کی جعلی فحش تصاویر نے یورپ میں خطرے کی گھنٹی بجادی

ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول گروک ایک نئے عالمی تنازعے کی زد میں آ گیا ہے، جہاں اس پر خواتین اور کم عمر بچوں کی جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر بنانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ گروک میں متعارف کرائے گئے “ایڈٹ امیج” فیچر کے بعد صارفین نے تصاویر کو نامناسب انداز میں تبدیل کرنا شروع کر دیا، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یورپی یونین نے اس معاملے کو “غیر قانونی اور ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ برطانیہ نے بھی ممکنہ کارروائی کی وارننگ دے دی ہے۔ فرانس، بھارت اور ملائیشیا میں حکام نے فوری اقدامات اور رپورٹ طلب کر لی ہے۔

یورپی کمیشن کے ترجمان کے مطابق گروک کااسپائسی موڈ دراصل بچوں سے متعلق فحش مواد کو فروغ دے رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ملائیشیا اور بھارت میں بھی صارفین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس ٹول کو “ڈیجیٹل تشدد” قرار دیا ہے۔

آن لائن ہنگامے کے بعد گروک انتظامیہ نے خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی وقار اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

پاکستان