اہم ترین

اسمارٹ فونز کے چیلنج کے باوجود ٹی وی زندہ: اے آئی اور بڑی اسکرینز سے نئی جنگ

اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کے بڑھتے استعمال کے باعث جہاں ٹیلی وژن کو زوال کا سامنا ہے، وہیں ٹی وی بنانے والی کمپنیاں اس روایتی اسکرین کو نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دوبارہ زندہ رکھنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہیں۔ لاس ویگاس میں جاری کنزیومر الیکٹرونکس شو (سی ای ایس) میں پیش کیے گئے جدید ماڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹی وی کو تاریخ کے کباڑ خانے میں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مارکیٹ ریسرچ ادارے کے مطابق 2017 میں روزانہ ٹی وی دیکھنے کا تناسب 61 فیصد تھا جو گزشتہ سال کے اختتام تک کم ہو کر 48 فیصد رہ گیا، جبکہ اسی عرصے میں اسمارٹ فون پر ویڈیو دیکھنے کا رجحان تقریباً دوگنا ہو کر 21 فیصد تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ بڑی اسکرینز اور چھوٹی اسکرینز کے درمیان ایک نسلوں کی جنگ ہے، جہاں نوجوان موبائل اور لیپ ٹاپ کو ترجیح دے رہے ہیں، خاص طور پر چین جیسے رجحان ساز ملک میں۔

فروخت میں کمی کے باوجود ٹی وی ساز ادارے زیادہ بڑی، مہنگی اور اسمارٹ اسکرینز متعارف کرا کر منافع برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سی ای ایس میں مصنوعی ذہانت سے لیس ٹی ویز، ذاتی نوعیت کے تجربات اور مائیکرو آر جی بی ٹیکنالوجی توجہ کا مرکز بنے۔ سام سنگ نے دنیا کا پہلا 130 انچ مائیکرو آر جی بی ٹی وی پیش کیا اور ہر پروڈکٹ میں اے آئی شامل کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب ایمیزون اور وال مارٹ کے درمیان مقابلہ اب ٹی وی فروخت سے آگے بڑھ کر اشتہارات اور ای کامرس تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹی وی اب محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ گھروں میں داخل ایک طاقتور اشتہاری پلیٹ فارم بن چکے ہیں، جو صارفین کو براہِ راست آن لائن خریداری کی طرف راغب کر رہے ہیں۔

پاکستان