مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے باعث نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ اب محض اندیشہ نہیں رہا بلکہ حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ تیز رفتاری، درستگی اور بغیر تھکے کام کرنے کی صلاحیت نے اے آئی کو کئی شعبوں میں انسانوں سے آگے لا کھڑا کیا ہے۔
اسی دوران ایلون مسک کا بیان بھی توجہ کا مرکز بنا رہا، جس میں انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اے آئی تقریباً ہر شعبے میں انسانوں سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔
اب اس بحث میں ایک نیا اور چونکا دینے والا موڑ اس وقت آیا جب گوگل کی پرنسپل انجینئر جانا ڈوگن نے ایسا دعویٰ کر دیا جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
گوگل انجینئر کا چونکا دینے والا انکشاف
جینا دیوگن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ گوگل کی ایک انجینئرنگ ٹیم گزشتہ ایک سال سے کوڈنگ سے متعلق ایک نہایت پیچیدہ مسئلے پر کام کر رہی تھی، مگر اسے مکمل طور پر حل نہیں کر پائی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جب یہی مسئلہ اے آئی ٹول کلاؤڈ کوڈ کو صرف چند پیراگراف میں سمجھایا گیا تو اس نے محض ایک گھنٹے میں وہی حل تیار کر دیا، جس پر گوگل کی ٹیم ایک سال سے کام کر رہی تھی۔
آخر مسئلہ تھا کیا؟
یہ تکنیکی مسئلہ ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکیسٹریٹرز سے متعلق تھا، یعنی ایسے سسٹمز جو ایک سے زیادہ اے آئی ایجنٹس کو ایک ساتھ منظم انداز میں کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
جینا دیوگن کے مطابق گوگل میں اس مسئلے کے حل کے لیے کئی ڈیزائنز پر غور کیا گیا، مگر کسی ایک حتمی ماڈل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے آئی کو دی گئی معلومات صرف تین مختصر پیراگراف پر مشتمل تھیں اور ان میں گوگل کی کوئی خفیہ یا اندرونی معلومات شامل نہیں تھیں۔
اگرچہ اے آئی کا تیار کردہ حل مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں تھا، لیکن اتنا مؤثر ضرور تھا کہ کسی بھی تجربہ کار انجینئر کو حیران کر دے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا واقعی اے آئی مستقبل میں انسانوں کی جگہ لینے جا رہا ہے؟











