اہم ترین

خوبصورتی بڑھانے کی سادہ سرجری نے ساقی ساقی گرل کو نیشنل کرش سے گمنامی میں دھکیل دیا

بالی وڈ کی کبھی نیشنل کرش کہلائی جانے والی اداکارہ کوئنا مترا کی شہرت کا سفر سنسنی خیز اور چمکدار رہا، لیکن ایک سادہ سی کاسمیٹک سرجری نے ان کے کیریئر پر غیر متوقع اثر ڈال دیا۔

سال 2004 میں جب سنجے دت کے ساتھ کوئنا نے مشہور گانے او ساقی ساقی پر ڈانس کیا، تو وہ راتوں رات سب کی نظریں اپنی طرف کھینچ گئیں۔ کولکاتا کے لیڈی بریبورن کالج کی پڑھاکو لڑکی سے نیشنل کرش بننے تک کا سفر جتنا چمکدار تھا، اتنے ہی چیلنجز بھی اس کے پیچھے چھپے تھے۔

کوئنا مترا 7 جنوری 1984 کو کولکاتا میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم کے ساتھ ماڈلنگ کا آغاز کیا اور 2001 میں گلیڈ رگز میگا ماڈل انڈیا کا تاج جیتا۔ جرمنی میں مس انٹرکانٹینینٹل کے ٹاپ 12 میں جگہ بنا کر عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔

رام گوپال ورما کی فلم روڈ میں مختصر کردار کے بعد، کوئنا کو اصل پہچان مسافر سے ملی۔ ان کے بجلی جیسے ڈانس مووز نے انہیں راتوں رات شہرت دلائی۔ اس کے بعد وہ ایک کھلاڑی ایک حسینہ اور اپنا سپنا منی منی جیسی فلموں میں نظر آئیں، جہاں انہوں نے صرف ایک آئٹم گرل نہیں بلکہ تھرلر اور کامیڈی فلموں میں بھی مضبوط کردار ادا کیا۔

کوئنا نے چہرے کے مخصوص حصوں، خاص طور پر چیک بونز کی شکل بہتر بنانے کے لیے کاسمیٹک سرجری کروائی۔ سرجری سادہ اور معمولی تھی، مگر انکے جسم نے غیر متوقع ردعمل دیا۔ چیک بونز میں سوجن اور چہرے پر پانی جمع ہو گیا، جس سے ان کی شکل بدل گئی۔ میڈیا اور فلم انڈسٹری میں منفی خبریں چلنے لگیں، اور ان کے کیریئر کو تین سال تک نقصان پہنچا

خود کوئنا مترا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرجری پر کبھی پچھتائی نہیں بلکہ اسے اپنا حق سمجھتی ہیں ۔ میرا چہرہ، میری زندگی ۔ مجھے کیسے جیسا چاہے ویسا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔

اب کوئنا مترا اپنی نجی زندگی میں مصروف ہیں۔ ان کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ چھوٹا سا فیصلہ بھی کسی اداکارہ کے کیریئر پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان