اہم ترین

راتوں کو کوئی گلا گھونٹتا تھا: ہیما مالنی نے آسیب زدہ گھر میں ہوئے واقعات بتادیئے

بالی ووڈ کی ڈریم گرل ہیما مالنی نے اپنی زندگی کے ایک خوفناک دور سے پردہ اٹھایا ہے۔ حال ہی میں ان کے شوہر، معروف اداکار دھرمیندر کے انتقال کے بعد، ہیما مالنی سے جڑا ایک ایسا واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔

رام کمل مکھرجی کی کتاب ہیما مالنی: بیونڈ دی ڈریم گرل میں اداکارہ نے اپنے ابتدائی فلمی دنوں کے کئی یادگار اور پراسرار واقعات بیان کیے ہیں۔

چنئی اور دہلی میں سرسبز ماحول میں پلی بڑھی ہیما مالنی ممبئی کے بند فلیٹس میں خود کو شدید گھٹن کا شکار محسوس کرتی تھیں۔

ہیما نے بتایا کہ فلم سپنوں کا سوداگر کے دوران وہ باندرا کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی تھیں، جو زیادہ تر کاسٹیوم ڈیزائنر بھانو آتھیا کے ڈریس ٹرائلز کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ بعد ازاں وہ ایک بنگلے میں منتقل ہوئیں، مگر وہاں کا تجربہ ان کے لیے نہایت خوفناک ثابت ہوا۔

کتاب میں ہیما لکھتی ہیں کہ ہر رات مجھے لگتا تھا جیسے کوئی میرا گلا دبا رہا ہو، سانس لینا مشکل ہو جاتا تھا۔ میں اپنی ماں کے ساتھ سوتی تھی اور وہ بھی میری بے چینی محسوس کرتی تھیں۔ اگر یہ ایک دو بار ہوتا تو شاید نظر انداز کر دیتی، مگر یہ ہر رات ہونے لگا۔

1972 میں فلم سیتا اور گیتا کی شوٹنگ کے دوران ہیما مالنی نے ممبئی میں اپنا پہلا بنگلہ خریدا۔ اس سے قبل ان کے والد نے انہیں جنوبی ممبئی کے واکیشور علاقے میں سمندر کے کنارے ایک شاندار اپارٹمنٹ تحفے میں دیا تھا، مگر ہیما نے صاف کہہ دیا کہ وہ شہر کے فلیٹ میں نہیں بلکہ درختوں سے گھرا ہوا گھر چاہتی ہیں، جیسا ان کا چنئی کا گھر تھا۔ اس کے بعد ان کے والد نے جوہو میں بنگلہ تلاش کرنا شروع کیا۔

اسی دور میں دھرمیندر اکثر ان کے گھر کافی پینے آیا کرتے تھے۔ ہیما کہتی ہیں کہ اس وقت مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں ایک دن ان سے محبت کروں گی اور شادی کروں گی۔

بعد میں ہیما نے جوہو میں ایک پانچ سال پرانا بنگلہ خریدا، جس کے اردگرد گھنے درخت تھے، اور اس میں مزید کمرے بنوائے۔

کتاب میں ان کی بیٹی ایشا دیول نے بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے دھرمیندر کی پہلی اہلیہ پرکاش کور سے 30 سال کی عمر میں پہلی ملاقات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیما مالنی اور پرکاش کور جوہو میں آمنے سامنے رہتی تھیں، مگر ملاقاتیں کم ہی ہو پاتیں۔

شادی کے بعد ہیما مالنی اپنی بیٹیوں کے ساتھ اسی بنگلے میں رہتی تھیں، جبکہ دھرمیندر اکثر ان سے ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔

پاکستان