وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات چھوڑنے کے بعد وزن حیران کن رفتار سے دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اوزیمپک اور ویگووی جیسی ادویات کا استعمال بند کرنے والے افراد میں وزن واپسی کی رفتار ڈائٹ اور ورزش چھوڑنے والوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔
برطانوی محققین کی جانب سے کیے گئے اس تازہ اور جامع مطالعے میں 37 تحقیقی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ایل پی 1 ایگونسٹس کہلانے والی یہ ادویات بھوک کم کرتی ہیں اور لوگ اوسطاً اپنے جسمانی وزن کا 15 سے 20 فیصد تک کم کر لیتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر سوسن جیب کے مطابق اگرچہ یہ بظاہر خوشخبری لگتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً نصف افراد ایک سال کے اندر یہ ادویات چھوڑ دیتے ہیں، جس کی بڑی وجوہات متلی جیسے مضر اثرات اور مہنگی قیمت (امریکا میں ایک ہزار ڈالر ماہانہ تک) ہیں۔
تحقیق کے مطابق دوا چھوڑنے کے بعد لوگ ماہانہ اوسطاً 0.4 کلوگرام وزن دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔ سیمیگلوٹائیڈ اور ٹرزیپیٹائیڈ استعمال کرنے والے افراد نے دوا کے دوران تقریباً 15 کلو وزن کم کیا، مگر دوا چھوڑنے کے ایک سال کے اندر 10 کلو وزن واپس آ گیا۔ محققین کا اندازہ ہے کہ 18 ماہ میں وزن مکمل طور پر پہلے جیسا ہو سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دل کی صحت سے متعلق بہتری، جیسے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح بھی تقریباً ڈیڑھ سال میں پرانی حالت میں لوٹ آتی ہے۔
اس کے برعکس، وہ افراد جو صرف ڈائٹ اور ورزش کے ذریعے وزن کم کرتے ہیں، اگرچہ کم وزن گھٹاتے ہیں، مگر انہیں وزن دوبارہ بڑھنے میں چار سال لگ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری ہے اور یہ ادویات علاج نہیں بلکہ آغاز ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر اور دیرپا نتائج کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور مشترکہ علاج ناگزیر ہے۔











