اہم ترین

موسمیاتی بحران: 2025 میں ریکارڈ سمندری حرارت سے ماہرین پریشان

بین الاقوامی ماہرینِ موسمیات کے مطابق سال 2025 میں دنیا کے سمندروں نے اب تک کی سب سے زیادہ حرارت جذب کی، جس کے نتیجے میں سمندری سطح میں اضافے، شدید موسمی طوفانوں اور مرجانوں کی تباہی کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ایڈوانسز ان ایٹموسفیئرک سائنسز نامی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق گزشتہ سال سمندروں میں جمع ہونے والی اضافی حرارت کی مقدار تقریباً 23 زیٹا جول رہی، جو دنیا بھر میں لگ بھگ 40 سال کی مجموعی توانائی کھپت کے برابر ہے۔

محققین کے مطابق یہ 1950 کی دہائی سے ریکارڈ رکھے جانے کے بعد کسی ایک سال کی سب سے بلند سطح ہے۔

اس تحقیق کے لیے دنیا بھر کے 31 تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیے ہزاروں تیرتے ہوئے خودکار روبوٹس (آرگوفلوٹس) کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جو سمندروں میں 2 ہزار میٹر تک کی گہرائی میں درجہ حرارت اور دیگر تبدیلیوں کو ریکارڈ کرتے ہیں۔

تحقیق کی شریک مصنفہ اور فرانسیسی ادارے مرکیٹر اوشین انٹرنیشنل سے وابستہ ماہرِ سمندریات کرینا فون شوکمان کے مطابق سمندر کی گہرائیوں میں حرارت کی پیمائش اس بات کا بہتر اندازہ دیتی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا دباؤ سمندروں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق سمندر زمین کے موسمی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے باعث فضا میں پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد جذب کر لیتے ہیں۔

تاہم یہ اضافی حرارت سنگین اثرات بھی لاتی ہے۔ گرم سمندر فضا میں نمی بڑھاتے ہیں، جو سمندری طوفانوں اور شدید بارشوں کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے گرم ہونے سے اس کا حجم بڑھتا ہے، جس کے باعث سمندری سطح بلند ہو رہی ہے۔

زیادہ گرم سمندر خاص طور پر استوائی علاقوں کے مرجانی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں، جہاں طویل سمندری ہیٹ ویوز کے دوران مرجان مرنے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ حرارت جذب کرنے والے علاقوں میں استوائی سمندر، جنوبی بحرِ اوقیانوس، بحیرۂ روم، شمالی بحرِ ہند اور قطب جنوبی شامل ہیں۔

اگرچہ 2025 میں سطحِ سمندر کے درجۂ حرارت میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم یہ اب بھی اب تک کے تیسرے بلند ترین درجۂ حرارت پر رہا۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ایل نینو سے لا نینا کی طرف موسمی تبدیلی ہے، جو عارضی طور پر سمندری سطح کو ٹھنڈا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مسلسل بڑھتی مقدار کے باعث سمندروں کے گرم ہونے کی رفتار مزید تیز ہو رہی ہے۔

کرینا فون شوکمان کے مطابق موسمی نظام میں سب سے بڑی غیر یقینی چیز اب سائنس نہیں، بلکہ انسان کے فیصلے ہیں۔ اگر اخراج میں تیزی سے کمی کی جائے تو مستقبل کے نقصانات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان