اہم ترین

غزہ میں اسرائیلی حملوں سے مزید 13 افراد شہید

غزہ میں لڑائی بند ہوئے کئی ہفتے گزر چکے لیکن اسرائیلی بربریت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

اے ایف پی کے مطابق غزہ میں کام کرنے والے محکمہ صحت کے حکام نے ساحلی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں سے کم از کم 13 افراد شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جام شہادت نوش کرنے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

متاثرین کے خاندانوں اور صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا، جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقامی محکمہ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ اس نے غزہ شہر کے علاقے سے کیے گئے ایک ناکام راکٹ حملے کے جواب میں کارروائی کی۔ فوج کے مطابق جنوبی اور شمالی غزہ میں حماس کے عسکری ڈھانچوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان مرحلہ وار جنگ بندی تاحال اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ حکام کے مطابق غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات کی واپسی سے متعلق کوششیں اب بھی جاری ہیں، جس کے باعث جنگ بندی کا عمل مکمل طور پر آگے نہیں بڑھ سکا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کی تقرریوں کا اعلان کر سکتے ہیں، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔ اس اقدام کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے امریکی کوششوں کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان