گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی کشیدگی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جب کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر طاقت کے استعمال کے اشارے دیے گئے ہیں۔
واشنگٹن میں معدنی وسائل سے متعلق اہم عالمی اجلاس سے قبل فریڈرکسن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ گرین لینڈ پر محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک واضح تنازع موجود ہے، جو بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور عوام کے حقِ خودارادیت سے جڑا ہوا ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ان کا ملک آرکٹک خطے میں اپنے اصولوں اور اقدار کے دفاع کے لیے تیار ہے اور گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کریں گے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے معاملے پر کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا، نے یورپ بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سویڈن اور جرمنی نے امریکی بیانات کو دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے ڈنمارک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
سویڈن کے وزیرِ اعظم اُلف کرسٹرسن کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا زبردستی قبضہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گا بلکہ یہ دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال بھی بن سکتا ہے۔
ادھر نیٹو حکام کے مطابق اگرچہ فوری طور پر کسی نیٹو رکن ملک کو خطرہ لاحق نہیں، تاہم آرکٹک کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت، روس اور چین کی سرگرمیوں کے تناظر میں، عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔
گرین لینڈ، جو کبھی ڈنمارک کی نوآبادی رہا، آج خودمختار حیثیت رکھتا ہے اور عوامی رائے واضح طور پر کسی بھی امریکی قبضے کے خلاف ہے۔











