کیا چند منٹ کی سخت ورزش کینسر کے خلاف جسم کی قدرتی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا سکتی ہے؟ برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 10 سے 12 منٹ کی تیز اور سخت ورزش آنتوں کے کینسر (کولوریکٹل کینسر) سے متعلق خلیوں کی سرگرمی کو سست کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
انٹرنیشنل جرنل آف کینسر میں شائع تحقیق میں شامل سائنس دانوں نے بتایا کہ ایک ہی شدید ورزش کے بعد خون میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئیں جو ڈی این اے کو تیزی سے مرمت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب ورزش کے بعد لیے گئے خون کے نمونوں کو لیبارٹری میں کینسر کے خلیوں پر آزمایا گیا تو 1,300 سے زائد جینز کی سرگرمی میں واضح تبدیلی دیکھی گئی۔
مطالعے کے مطابق ورزش کے بعد خون میں ایک خاص پروٹین انٹرلیوکِن-6 (IL-6) کی مقدار بڑھی، جو ڈی این اے کی مرمت میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ جینز بھی دب گئے جو کینسر کے خلیوں کی تیز رفتار افزائش سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے کینسر کی بڑھوتری سست ہونے کے آثار ملے۔
یہ تحقیق 50 سے 78 سال کی عمر کے 30 ایسے افراد پر کی گئی جو موٹاپے کا شکار تھے لیکن دیگر بیماریوں سے محفوظ تھے۔ شرکاء نے ایک اسٹیشنری سائیکل پر انتہائی سخت ورزش کی، جس کا دورانیہ صرف 10 سے 12 منٹ تھا۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ نتائج اس بات کا ثبوت نہیں کہ ورزش کینسر کا علاج ہے، تاہم یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ جسمانی سرگرمی کس طرح کینسر کے خلاف قدرتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن کینسر کے مریضوں کے لیے حتمی سفارشات دینے سے پہلے مزید وسیع تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر مریض کے لیے سخت ورزش ممکن نہیں ہوتی۔











