اہم ترین

آن لائن ٹوٹکا سے متاثر نوجوان کو پیشاب کی نالی سے جونک مثانے میں داخل کرانا بھاری پڑگیا

چین میں نوجوان کو ایک خطرناک روایتی علاج آزمانا مہنگا پڑ گیا، جب اس نے آن لائن ملنے والے مشورے پر عمل کرتے ہوئے زندہ جونک کو پیشاب کی نالی کے ذریعے مثانے میں داخل کر لیا۔ اس عمل کے بعد نوجوان کو شدید اذیت ناک درد کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پیشاب کرنے سے بھی قاصر ہو گیا۔

غیر ملکی نیوز ویب سائیٹ کے مطابق صوبہ ہینان کے شہر ژینگ ژو سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ نوجوان کو یقین تھا کہ یہ نام نہاد روایتی طریقہ علاج شفا بخش اثرات رکھتا ہے۔ جونک مثانے تک پہنچ کر وہاں کی دیواروں سے چمٹ گئی اور خون کو پتلا کرنے والے مادے خارج کرنے لگی، جس سے اس کی حالت مزید خراب ہو گئی۔

شدید درد کے باعث نوجوان کو فوری طور پر مقامی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں الٹراساؤنڈ کے ذریعے مثانے میں جونک کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ بعد ازاں یورولوجی ماہرین کی ٹیم نے ہنگامی سرجری کے ذریعے جونک کو کامیابی سے نکال لیا۔

سرجری کے بعد نوجوان کی حالت بہتر ہو گئی اور وہ دوبارہ معمول کے مطابق پیشاب کرنے کے قابل ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے اس واقعے کو عوام کے لیے وارننگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر سائنسی بنیاد کے روایتی یا آن لائن ٹوٹکوں پر عمل کرنا سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایسے غیر سائنسی طریقہ علاج کے نتیجے میں مستقبل میں دائمی درد، پیشاب کی خرابی، بار بار انفیکشن اور پیشاب کی نالی کے تنگ ہونے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان