اہم ترین

لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا کی جیلوں میں بغاوت: درجنوں اہلکار یرغمال

لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا کی تین مختلف جیلوں میں قیدیوں نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کم از کم 46 جیل ملازمین کو یرغمال بنا لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعات ہفتے کے روز شروع ہوئے اور بظاہر انہیں منظم انداز میں گینگ ارکان نے انجام دیا۔

الجزیرہ کے مطابق وزیرِ داخلہ مارکو انتونیو ویلیڈا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یرغمال بنائے گئے افراد میں زیادہ تر جیل گارڈز شامل ہیں، تاہم ایک ماہرِ نفسیات بھی یرغمالیوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اب تک کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہنگاموں کے پیچھے بدنام زمانہ بارریو 18 گینگ کے ارکان ہیں، جو اپنے ایک سرغنہ کی بہتر سہولیات کے لیے دوسری جیل منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ بدامنی گینگ لیڈروں سے مراعات واپس لینے کے حکومتی فیصلے کا براہِ راست ردِعمل ہے۔

وزیرِ داخلہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کسی دہشت گرد گروہ سے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔ یہ بلیک میلنگ ہے اور ہم اس کے آگے نہیں جھکیں گے، نہ ہی ان کی مراعات بحال کی جائیں گی۔

جنوبی گوئٹے مالا کے علاقے اسکوئنٹلا میں واقع رینوواسیون 1 ہائی سیکیورٹی جیل کے گرد پولیس اور فوج نے سخت گھیرا ڈال رکھا ہے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق کئی قیدی، جن کے چہرے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے تھے، جیل کی نگرانی ٹاورز پر کھڑے نظر آئے۔ ایک نقاب پوش قیدی نے خاردار تاروں کے پیچھے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ان کی جان محفوظ نہیں اور وہ منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گوئٹے مالا میں حالیہ برسوں کے دوران جیلوں پر گینگز کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا ہے، جبکہ قیدی سخت اور غیر محفوظ حالات کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر میں 20 قیدیوں کے فرار کے بعد صدر برنارڈو آریوالو نے تین اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے استعفے قبول کر لیے تھے۔

صدر آریوالو کا کہنا ہے کہ جیلوں اور بیرونی جرائم کے درمیان موجود تعلق کو توڑنا ناگزیر ہے، اور اسی مقصد کے تحت حکومت جیل نظام پر کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاکستان