اہم ترین

سانحہ گل پلازا: قوم کو بیانات نہیں عملی اقدام دکھائیں

کراچی کےمعروف تجارتی مرکز گل پلازا میں پیش آنے والا افسوسناک آتشزدگی کا واقعہ نہایت دلخراش اور قوم کے لیے شدید صدمے کا باعث ہے۔ اس المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جس پر ہم غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔

اس حوالے سے سماجی کارکن اور ڈیفینڈر آف پاکستان مومنٹ کراچی کے آرگنائزر ابراہیم بھٹی کا کہنا ہے کہ گل پلازا ایک مصروف تجارتی مرکز تھا جہاں روزانہ بڑی تعداد میں شہری روزگار اور خریداری کے لیے آتے تھے۔ ایسے میں آگ لگنے کے بعد ہنگامی اخراج کے راستوں، فائر الارم، فائر فائٹنگ سسٹم اور ریسکیو سہولیات کی کمی نے جانی نقصان کو کئی گنا بڑھا دیا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں؛ اس سے قبل بھی مختلف شہروں میں پلازوں اور فیکٹریوں میں آگ لگنے کے سانحات پیش آ چکے ہیں، مگر ہر بار چند دن شور کے بعد معاملہ فراموش کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ وزیرِ اعلیٰ نے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ابراہیم بھٹی کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں، بشمول قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین، نے بھی اس سانحے کو ریاستی غفلت اور ناقص نگرانی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تاہم عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ہر حادثے کے بعد تحقیقات اور وعدے ہی ہونے ہیں تو پیشگی حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟

یہ حقیقت ہے کہ فائر سیفٹی قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیاسی قیادت، بلدیاتی ادارے، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اور فائر بریگیڈ—سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف حادثے کے بعد بیانات دینے کے بجائے، خطرناک عمارتوں کی نشاندہی، باقاعدہ آڈٹ اور سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی آزاد، شفاف اور وقت کی پابند تحقیقات کی جائیں۔ غفلت کے مرتکب سرکاری و نجی عناصر کو بلا امتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب مالی معاونت فراہم کی جائے، اور تمام تجارتی پلازوں و بلند عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔

ابراہیم بھٹی نے کہا کہ یہ سانحہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ اگر آج بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل کوئی اور پلازا، کوئی اور عمارت، اور کوئی اور خاندان ہماری اجتماعی غفلت کی قیمت چکائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست، بیانات اور کمیٹیوں سے آگے بڑھ کر انسانی جانوں کے تحفظ کو حقیقی ترجیح بنایا جائے۔

انکےمطابق یہ واقعہ ایک بار پھر ہمارے شہروں میں ناقص حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی کمی اور متعلقہ اداروں کی غفلت کو بے نقاب کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تجارتی عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات کیوں موجود نہیں ہوتے، اور کیوں ایسے سانحات کے بعد ہی اقدامات کی بات کی جاتی ہے؟

انہوںنےمطالبہ کیاکہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد اور اداروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام پلازوں اور بلند عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو ایسے ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پاکستان