ناروے کے ماہرین کی رپورٹ کےمطابق ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات نے کرۂ ارض پر بسنے والے ہر انسان کو متاثر کیا ہے اور وقت کے ساتھ کم از کم 40 لاکھ قبل از وقت اموات کینسر اور دیگر بیماریوں کی صورت میں واقع ہو چکی ہیں۔
نارویجین پیپلز ایڈ (این پی اے) کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جو ایٹمی تجربات کے ہولناک اور دیرپا اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1945 سے 2017 کے درمیان دنیا بھر میں 2,400 سے زائد ایٹمی دھماکے کیے گئے۔ اگرچہ نو ایٹمی طاقتیں اسلحہ رکھتی ہیں، مگر 1990 کی دہائی کے بعد صرف شمالی کوریا نے ایٹمی تجربات کیے۔ اس کے باوجود ماضی کے تجربات کے اثرات آج بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی پولینیشیا کی 37 سالہ رکنِ پارلیمنٹ ہیناموئیرا کراس کہتی ہیں کہ وہ صرف سات برس کی تھیں جب 1996 میں فرانس نے ان کے گھر کے قریب آخری ایٹمی دھماکا کیا۔ 17 برس بعد انہیں لیوکیمیا کی تشخیص ہوئی، جبکہ ان کے خاندان میں پہلے ہی تھائیرائیڈ کینسر کے کئی مریض موجود تھے۔ انہوں نے ہمیں زہر دے دیا۔
304 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایٹمی تجربات سے متاثرہ علاقوں میں ریاستی رازداری، عالمی بے توجہی اور ڈیٹا کی کمی نے متاثرہ کمیونٹیز کو سچ جاننے سے محروم رکھا ہے۔
این پی اے کے سربراہ ریمنڈ یوہانسن کے مطابق،ماضی کے ایٹمی تجربات آج بھی لوگوں کو مار رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فضائی ایٹمی تجربات کے نتیجے میں خارج ہونے والے تابکار ذرات اس قدر پھیل چکے ہیں کہ آج زندہ ہر انسان کی ہڈیوں میں تابکار آئسوٹوپس موجود ہیں۔
رپورٹ کے شریک مصنفین کے مطابق صرف فضائی ایٹمی تجربات مستقبل میں کم از کم 20 لاکھ اضافی کینسر اموات کا سبب بنیں گے، جبکہ اتنی ہی اموات دل کے دورے اور فالج سے متوقع ہیں۔
تحقیق کے مطابق تابکاری کی کوئی محفوظ حد نہیں ہوتی۔اس کے اثرات سب پر یکساں نہیں ہوتے۔جنین اور کم عمر بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ خواتین اور لڑکیاں مردوں کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ کینسر کے خطرے سے دوچار ہوتی ہیں۔
ایٹمی تجربات کا سب سے زیادہ نقصان ان علاقوں کو ہوا جو تجربہ گاہوں کے قریب تھے ، اکثر وہ سابق نوآبادیات تھیں۔ الجزائر میں آج تک یہ معلوم نہیں کہ فرانس نے تابکار فضلہ کہاں دفن کیا۔ کیریبین میں برطانیہ اور امریکا کی تحقیق اب بھی خفیہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق کسی بھی ایٹمی طاقت نے آج تک اپنے تجربات پر باضابطہ معافی نہیں مانگی، جبکہ معاوضہ اسکیمیں اکثر متاثرین کی مدد کے بجائے ریاستی ذمہ داری محدود کرنے کا ذریعہ بنی رہیں۔
کراس کا کہنا ہے کہ انہیں اسکول میں صرف یہ بتایا گیا کہ ایٹمی تجربات سے فرانس کو معاشی فائدہ ہوا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ فرانس نے 1966 سے 1996 کے درمیان 193 ایٹمی دھماکے کیے،جن میں سے ایک ہیروشیما بم سے 200 گنا زیادہ طاقتور تھا۔ یہ تجربات نہیں تھے، یہ اصل بم تھے۔ ہمیں برسوں تک تجرباتی جانور بنایا گیا۔











