چین کی ملکیت والی ویڈیو ایپ ٹک ٹاک نے امریکا میں ممکنہ پابندی سے بچنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی اکثریتی ملکیت پر مشتمل ایک نئی مشترکہ کمپنی قائم کر لی ہے، جو اب امریکا میں ٹک ٹاک کا کاروبار چلائے گی۔
نئی کمپنی کا نام ٹک ٹاک یو ایس ڈی سی جوائنٹ وینچر ایل ایل سی رکھا گیا ہے، جو امریکا میں 20 کروڑ سے زائد صارفین اور 75 لاکھ کاروباروں کو خدمات فراہم کرے گی۔
ٹک ٹاک کے مطابق اس نئے نظام میں صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ، الگورتھم کی سیکیورٹی اور مواد کی نگرانی کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
امریکی قانون کے مطابق، اگر ٹک ٹاک چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت میں رہتی تو اسے امریکا میں بند کیا جا سکتا تھا۔ اسی قانون کے تحت بائٹ ڈانس نے اپنی ملکیت کم کر کے 19.9 فیصد کر دی ہے، جو قانونی حد سے کم ہے۔
اس منصوبے میں معروف امریکی کمپنیوں اوریکل اور سلور لیک سمیت متحدہ عرب امارات کا سرمایہ کاری فنڈ ایم جی ایکس بھی شامل ہے۔ صارفین کا ڈیٹا اب اوریکل کے محفوظ کلاؤڈ سسٹم میں رکھا جائے گا اور اس کی جانچ آزاد ماہرین کریں گے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ ٹک ٹاک اب عظیم امریکی سرمایہ کاروں کی ملکیت بن چکا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
نئی کمپنی کا انتظام ایک سات رکنی بورڈ کے پاس ہوگا، جس میں زیادہ تر امریکی ارکان شامل ہوں گے۔ ٹک ٹاک کے موجودہ سی ای او شو ژی چیُو بھی بورڈ کا حصہ ہوں گے، جبکہ نئی کمپنی کے سی ای او ایڈم پریسر ہوں گے۔
یوں ٹک ٹاک نے امریکا میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قانونی اور تجارتی مسئلہ حل کر لیا ہے۔











