اہم ترین

سَیٹلائٹ انٹرنیٹ کے میدان میں بلیو اوریجن آگئی، ایلون مسک کی اسٹار لنک کو مقابلہ

ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن بلیو اوریجن نے سَیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں قدم رکھنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے نئے کمیونیکیشن نیٹ ورک ٹیرا ویو کو متعارف کروایا ہے، جسے ایلون مسک کی اسپیس ایکس اور اس کی اسٹار لنک سروس کے لیے ایک بڑی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بلیو اوریجن کے مطابق، ٹیرا ویو سَیٹلائٹ نیٹ ورک کی تعیناتی 2027 کی چوتھی سہ ماہی سے شروع کی جائے گی۔

کمپنی نے بتایا ہے کہ ٹیرا ویو کے تحت مجموعی طور پر 5 ہزار 408 سَیٹلائٹس زمین کے نچلے (ایل ای او ) اور درمیانے (ایم ای او) مدارمیں بھیجے جائیں گے۔ یہ سَیٹلائٹس زمین سے تقریباً 100 میل سے لے کر 21 ہزار میل کی بلندی پر مختلف مداروں میں گردش کریں گے۔

بلیو اوریجن کا کہنا ہے کہ یہ ملٹی آربٹ ڈیزائن خاص طور پر ان علاقوں میں تیز اور مستحکم انٹرنیٹ فراہم کرے گا، جہاں فائبر نیٹ ورک بچھانا مہنگا یا تکنیکی طور پر مشکل ہے۔

ٹیرا ویو نیٹ ورک کی ڈیٹا صلاحیت 6 ٹیرابِٹ فی سیکنڈ تک ہوگی۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ سروس عام گھریلو صارفین کے بجائے بڑے انٹرپرائزز، ڈیٹا سینٹرز اور حکومتی اداروں کو مدِنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔

نیٹ ورک کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ برابر اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ اسپیڈ، زیادہ ریڈنڈنسی اور تیزی سے اسکیل ہونے والی کنیکٹیوٹی فراہم کر سکے۔

بلیو اوریجن کے مطابق ٹیرا ویو کی بناوٹی ساخت موجودہ گراؤنڈ بیسڈ نیٹ ورکس کو سپورٹ اور مکمل کرے گا۔ اس میں ہائی پرفارمنس آر ایف اور آپٹیکل کنیکٹیوٹی کے ساتھ فائبر بیک ہال کی سہولت بھی شامل ہوگی۔

جیف بیزوس ایسے وقت میں سَیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، جب یہ شعبہ پہلے ہی شدید مقابلے کا شکار ہے۔

فی الحال اسٹار لنک کے پاس 9 ہزار سے زائد سَیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں۔ اور دنیا بھر میں تقریباً 90 لاکھ صارفین اس کی سروس استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایمازون بھی اپنے سَیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ پروجیکٹ کیوپر کو گزشتہ سال لیو کے نام سے ری برانڈ کیا گیا تھا۔ جس کے تحت اپریل 2025 سے اب تک 180 سَیٹلائٹس لانچ کیے جا چکے ہیں۔

مستقبل میں ایمازون کی کچھ لانچنگ ذمہ داریاں بلیو اوریجن سنبھال سکتی ہے۔ یوں خلائی انٹرنیٹ کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ مزید دلچسپ ہونے جا رہا ہے۔

پاکستان