بالی ووڈ کےسلطان سلمان خان کے پرسنیلٹی رائٹس (شخصی حقوق) کے خلاف چینی کمپنی بھارتی ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے۔ جس پرعدالت نے سلمان خان سے جواب بھی طلب کرلیا ہے۔
پرسنیلٹی رائٹس کے تحت کوئی بھی انسان اپنے نام، تصویر، آوازاور شناخت کے تجارتی استعمال کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ تاکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی اس کا تجارتی معاملات میں استعمال نہ کرسکے اور اسے اس حوالے سے مالی نقصان نہ ہو۔
بالی ووڈ کے کئی ستاروں نے برسنیلٹی رائٹس کے لئے عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔ ان میں سے ایک سلمان خان بھی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی شخص یا کمپنی ان کی اجازت کے بغیر ان کی شناخت کا استعمال نہ کر سکے۔
دوسری جانب ایک چینی کمپنی نے سلمان خان کےپسنلیٹی رائٹس کی درخواست کے خلافدہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
چینی کمپنی نے سلمان خان کے پرسنلیٹی رائٹس (شخصی حقوق) کو چیلنج کیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے حقوق بین الاقوامی تجارت اور برانڈنگ میں رکاوٹ بنتے ہیں، اس لیے ان پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔ سلمان خان کی جانب سے اپنے نام، تصویر اور شناخت کے استعمال پر لگائی گئی پابندیاں اس کے کاروباری مفادات کو متاثر کر رہی ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد سلمان خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چار ہفتوں میں اپنا مؤقف پیش کریں، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ہوگی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس نہ صرف سلمان خان بلکہ دیگر بالی ووڈ ستاروں، سیلیبریٹی پرسنلیٹی رائٹس اور بین الاقوامی کمپنیوں کے قانونی دائرۂ کار کے لیے بھی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔











