ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے خبردار کیا ہے کہ ایسے واضح اشارے موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملے کا موقع تلاش کر رہا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو اس کے نتیجے میں پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حالات کسی اور سمت جائیں، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ خصوصاً اسرائیل ایران کے خلاف کارروائی کے لیے موقع ڈھونڈ رہا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایران میں اپنے دوستوں کو پورے عمل سے آگاہ کیا، اور دوست ہمیشہ کڑوی سچائی بیان کرتا ہے۔
حاقان فیدان کے اس بیان سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ ایران میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کا مخالف ہے اور اپنے ہمسایہ ملک کے امن اور استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے دشمنوں کی جانب سے کسی بھی حملے کو مکمل جنگ تصور کرے گا۔ ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ یا کوئی اور ملک ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو سخت ترین ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی بحری افواج کی خطے میں نقل و حرکت تشویشناک ہے، اگرچہ امید ہے کہ یہ حقیقی تصادم کے لیے نہ ہو، تاہم ایران کی فوج بدترین صورتحال کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار کسی بھی قسم کے حملے — چاہے محدود ہو یا نام نہاد سرجیکل — کو ہمہ جہت جنگ سمجھا جائے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کا اسٹرائیک گروپ جنوبی بحیرۂ چین سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے اور آئندہ دنوں میں خلیجی خطے میں پہنچنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ جون 2024 میں بھی امریکا نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران خطے میں بڑی بحری فوجی موجودگی قائم کی تھی، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے سے قبل بھی امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔











