اہم ترین

سعودی عرب اور یو اے ای آمنے سامنے، خلیج میں نئے بحران کے بادل

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ریاض کی سرکاری میڈیا مہم نے ابو ظہبی پر کھلے عام الزام تراشی شروع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خلیجی خطے کو ایک اور بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

تنازع کی تازہ چنگاری یمن میں ہونے والی مختصر لیکن شدید جھڑپ بنی، جہاں سعودی فضائی حملوں نے یو اے ای کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند قوتوں کی پیش قدمی کو روکا۔ اس کے بعد سعودی سرکاری اور سوشل میڈیا پر حقوق کی خلاف ورزیوں، غداری اور انتشار پھیلانے جیسے سخت الزامات گردش کرنے لگے۔

سعودی سرکاری چینل الاخباریہ نے ایک رپورٹ میں الزام لگایا کہ متحدہ عرب امارات لیبیا، یمن اور افریقہ کے ہارن میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر کے افراتفری میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ خلیج میں اس نوعیت کی زبان 2017 کے بعد پہلی بار سننے میں آئی ہے، جب سعودی عرب اور یو اے ای نے قطر کا سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کیا تھا۔

خلیجی سلامتی امور کی ماہر انا جیکبز کے مطابق جو اختلافات پہلے بند کمروں میں تھے، اب وہ غیر معمولی انداز میں سب کے سامنے آ چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کی جنگ پچھلے خلیجی بحران کی یاد دلا رہی ہے۔

اس کے برعکس، ابوظہبی نے اب تک محتاط خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اماراتی ماہر سیاسیات عبدالخالق عبداللہ کا کہنا ہے کہ یو اے ای اپنے بڑے بھائی کو اشتعال دلانے کا عادی نہیں۔

تاہم سعودی تجزیہ کاروں کا مؤقف خاصا سخت ہے۔ سعودی سیاسی مبصر سلیمان العقیلی کے مطابق ریاض میں یہ گہرا احساس پایا جاتا ہے کہ یو اے ای نے اسٹریٹجک شراکت داری سے انحراف کیا اور سعودی اثر و رسوخ کے دائرے میں بحران کھڑے کر رہا ہے۔

مزید تیزی اس وقت آئی جب سعودی میڈیا پر یو اے ای کے کردار کو “کندوُرہ میں لپٹا اسرائیلی منصوبہ” قرار دیا گیا—یہ حوالہ 2020 میں یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات قائم ہونے کی طرف تھا۔

اسی ہفتے، سعودی حمایت یافتہ یمنی حکام نے بین الاقوامی میڈیا کو وہ مقامات دکھائے جنہیں انہوں نے یو اے ای کے زیر انتظام “خفیہ جیلیں” قرار دیا۔ اگرچہ امارات نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں فوجی تنصیبات کہا، مگر مجموعی طور پر سعودی حملوں کا جواب دینے سے گریز کیا۔

ریاض نے اشارہ دیا ہے کہ اقتصادی دباؤ بھی زیر غور آ سکتا ہے۔ الاخبابیہ کی ایک نشریہ میں کہا گیا کہ اگر ابوظہبی نے اشتعال انگیزی جاری رکھی تو سعودی عرب ضروری اور سخت اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ادھر سفارتی محاذ پر بھی بساط بچھ رہی ہے۔ یو اے ای کے صدر نے بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کر کے دفاعی شراکت داری پر بات کی، جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔

سوڈان، صومالیہ اور قطر جیسے معاملات بھی اس خلیجی سرد جنگ کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری طور پر تعلقات ٹوٹنے کا امکان کم ہے، مگر پیغام واضح ہے: خلیج میں طاقت کا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔

پاکستان