وفاقی حکومت نے کراچی اور لاہور کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو بھی باضابطہ طور پر نجکاری کے فعال پروگرام میں شامل کر دیا ہے۔
کچھ خبری رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پاکستان نے یو اے ای کے ساتھ اسلام آباد ائیرپورٹ کی نجکاری کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔ جس پر وزارت نجکاری نے اس دعوے کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔
گلف نیوز نے وزارت نجکاری کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ملک کے تینوں بڑے ائیرپورٹس کی آپریشنز کو مینجمنٹ کنٹریکٹس یا طویل مدتی کمرشل کنسیشن کے ذریعے آؤٹ سورس کیا جائے گا، تاکہ انفراسٹرکچر بہتر بنایا جا سکے، مسافروں کی سہولیات بڑھائی جا سکیں اور آمدنی میں اضافہ ہو۔
حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے یو اے ای کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا، تاہم حکومت نے اس کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ نجکاری کمیشن نے واضح کیا کہ تینوں ائیرپورٹس کے لیے کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے۔
حکومت نے سرکاری معاہدوں سے ہٹ کر تمام ائیرپورٹس کے لیے کھلے اور شفاف بولی کے عمل کا اعلان کیا ہے، تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع میسر آئیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ عمل پاکستان کے مفاد اور عالمی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔










